تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینا درست نہیں ، سینئرصحافی کا تجزیہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹی ایل پی کے ساتھ حکومت کے مذاکرات جاری ہیں اور اس وقت تک کنفرم خبر موصول نہیں ہو سکی کہ کیا مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں یا نہیں۔ٹی ایل پی کے دھرنے کی شدت میں کمی آتی جا رہی ہے اور دوسری طرف حکومت نے گرفتار کارکنان کو بھی رہا نہیں کیااور نہ ہی مقدمات کو خارج کیا گیا ہے تو ایسے میں بظاہر تو یہ تاثر مل رہا ہے کہ ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے مگر جو کچھ میڈیا میں رپورٹ ہو رہا ہے اور حکومتی وزرا جس طرح کی پریس کانفرنسز کرتے نظر آ رہے ہیں اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ معاملات کلیئر کر لیے ہیں۔

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ ٹی ایل پی پرلگائی گئی حکومت کی پابندی درست نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قانونی حوالے سے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینا قطعاً درست نہیں ہے اگر اسی ملک کی ایک سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو دیکھیں تو ایم کیو ایم نے کیسی کیسی تقریریں نہیں کیں انہوں نے تو ملک دشمن تقریریں بھی کر ڈالیں اور اس سے بڑھ کر بھی بہت کچھ کیا مگر ایم کیو ایم کو کبھی تاریخ میں کالعدم نہیں کیا گیا ہاں البتہ اس کے قائد پر پابندی ضرور لگا دی گئی تھی۔اگر حکومت کے پاس ایسی رپورٹس تھیں کہ سعد رضوی یا ٹی ایل پی کی طرف سے ملک دشمن کارروائیاں سرزد ہونے جا رہی ہیں تو ادھر بھی سعد رضوی پر حکومت کو پابندی عائد کر دینی چاہیے تھی نا کہ سعد رضوی کو گرفتار کر کے سارے ملک کو ہی ہڑتال اور احتجاج کے حوالے کر دیا جاتا۔موجوہ حالات میں حکومت کی رٹ ہر معاملے میں ناکام نظر آئی ہے امن و امان کی صورتحال کو حکومت نے خو ہی ملیا میٹ کر دیا۔حکومت کو چاہیے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ معاملات خوش اسلوبی سے حل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں