حکومت کا تحریک لبیک پر پابندی برقرار رکھنے، مقدمات واپس نہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی برقرار رکھنے اور مقدمات واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرداخلہ اور وزیر مذہبی امور نے پارلیمانی پارٹی کو ٹی ایل پی سے مذاکرات پر بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ معاہدے کے مطابق حکومت قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے جارہی ہے، تاہم تحریک لبیک پر پابندی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور ٹی ایل پی کالعدم جماعت اور اس پر پابندی برقرار رہے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹی ایل پی کارکنان پر قتل کے مقدمات بھی واپس نہیں لیے جارہے

تاہم ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کو ایم پی او کے تحت رہا کیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر پوری قوم متحد اور یک زباں ہے، اگرچہ ٹی ایل پی کا مقصد ٹھیک ہے لیکن طریقہ کار درست نہیں تھا، عالمی سطح پر مضبوط کیس پیش کرنے کے لیے حکمت اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔دوسری جانب ناموس رسالت ﷺ سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن امجد علی خان نے فرانسیسی میگزین کی جانب گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف قرار داد پیش کی۔اجلاس کے دوران قرار داد کا متن پڑھ کر سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار رائے کا سہارا لے کر ایسے افراد کی حوصلہ افزائی انتہائی افسوسناک ہے۔ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔قرارداد میں کہا گیا کہ تمام مسلمان ممالک کو شامل کرتے ہوئے اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے یہ ایوان فرانسیسی میگزین میں چھپنے والے گستاخانہ خاکوں کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ پوری مسلم دنیا کی جانب سے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں