مراد علی شاہ نے حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے مابین معاہدے کی مخالفت کر دی

کراچی (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومت اور کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے مابین ہونے والے معاہدے کی مخالفت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم سب کے دلوں میں رسول اکرم ﷺکی عزت اور جذبات ہیں، ناموس رسالت ﷺ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ کل لاہور میں جو کچھ ہوا اس کے رد عمل میں ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ ہم نے سندھ میں مذہبی جماعتوں سے رابطے بھی کیے ہیں، ہمارے کسی بھی عمل سے دوسروں کو مشکلات نہیں ہونی چاہئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے دکان بند کرنا چاہتا ہے تو اسے نہیں روکا جائے گا، پُرامن طریقے سے جو احتجاج کرنا چاہتا ہے اسے نہیں روکیں گے۔اگر امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی تو حفاظتی اقدامات کریں گے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ 68 واليوم کے جو شواہد ہيں يا جو کچھ بھی انہوں نے ديا ہے اتنے کا تو پورا پاور پلانٹ نہيں تھا جتنے کاغذ اور درخت تباہ کيے ہيں۔انہوں نے کہا کہ کامياب منصوبہ جو سندھ خاص طور پر کراچی کے لوگوں کو 100 ميگا واٹ بجلی دے رہا ہے اس پر عدالت بلایا گیا ہے۔کرونا وائرس سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے کہا تھا تمام کاروبار ایس او پیز کے ساتھ کھلے رکھ سکتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ میں نے صرف دو ہفتے کے لیے ایسا کرنے کو کہا لیکن میری بات نہیں مانی گئی۔ وفاق کچھ نہیں کرتا تو ہم خود کوئی راستہ نکالیں گے اور ماہرین سے بات کریں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کل لاہور میں جو واقعہ پیش آیا اس کے بعد مفتی منیب الرحمان نے احتجاج کی کال دی جس پر ہم نے کہا ہے کوئی اپنی مرضی سے دکان بند کرنا چاہے تو کرے۔ ناموس رسالت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہے لیکن اس معاملے پر وفاقی حکومت صوبوں کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔انہوں نے کہا کہ 5، 6 دن پہلے بھی جو کچھ ہوا اس پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ حکومت کو چاہیئے سب اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر چلے اور حکومت کو یہی تجویز دے سکتا ہوں کچھ ایسا نہ کریں جو ممکن نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں