مظاہرین کی بڑی تعداد نے لال حویلی کا گھیرائو کرلیا، شیخ رشید کے خلاف نعرے بازی

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) مظاہرین کی بڑی تعداد لال حویلی پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق مظاہرہ کرنے والوں کی بڑی تعداد وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی رہائشگاہ لال حویلی کے باہر پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے لال حویلی کا گھیراؤ کر لیا گیا ہے۔مظاہرین کی جانب سے شیخ رشید کے خلاف نعرے بازی بھی کی جارہی ہے۔راولپنڈی پولیس اور رینجرز کے دستے لال حویلی کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ رینجرز کو فوری طور پر مظاہرہ کرنے والے افراد کو منتشر کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ لال حویلی کے باہر موجود مظاہرین کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو

فوری طور پر ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس صورتحال میں شیخ رشید احمد اور لال حویلی کی سیکیورٹی گزشتہ روز ہی بڑھا دی گئی تھی ۔وفاقی وزیر داخلہ کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے انہیں سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔قبل ازیں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ لوگ باتیں کرتے ہیں اور عمران خان سارے کام کرتے ہیں، آپ (عمران خان) اسلام کے لیے ہیں اور اسلام آباد آپ کو اللہ اور عوام نے دیا ہے۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بعض لوگ اسلام آباد کی طرف صرف ترسی ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اللہ نیتوں کا پھل دیتا ہے اور آپ کو نیتوں کا پھل دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ٹانگ کھینچنے والوں کی کمی نہیں ہے، وہ لوگ جن کے عقیدے نہیں ملتے وہ بہانے اور موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے جس کا نام عمران خان ہے اس نے شکست کھانا نہیں سیکھی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بعض لوگ اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان شاء اللہ وزیراعظم عمران خان اسلام اور ملک دشمنوں کو شکست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے، حکمرانی دیتا ہے اور چھین بھی لیتا ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حکمرانی ہماری وجہ سے ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا ہے، عمران خان کے ساتھ سیاست میں آیا ہوں اور ان کے ساتھ جاؤں گا، مجھے پوری امید ہے کہ عمران خان کے تمام دشمن شکست کھائیں گے۔

دوسری جانب لاہور میں ڈی ایس پی نواں کوٹ اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔مقدمہ تھانہ نواں کوٹ میں اے ایس آئی محمد اقبال کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کےتحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق مشتعل مظاہرین نے تھانے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، مظاہرین کے پاس پٹرول بم اور تیزاب کی بوتلیں تھی۔ مظاہرین نے تھانے میں گھس کر آگ لگا دی اور ڈی ایس پی کو اہلکاروں سمیت اغوا کر لیا۔ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ 300 کارکن جو اسلحہ اور ڈنڈوں سے لیس تھے سی آئی اے میں جانے اور رینجرز پر حملہ آور ہوئے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button