حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات میں بڑے بیک تھرو کا امکان

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ گورنر پنجاب اور وزیر قانون راجہ بشارت مذاکرات کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی نعیم اشرف بٹ نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کی کمیٹی سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر قانون راجہ بشارت نے مذاکرات کیے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات نیوٹرل جگہ پر کیے گئے۔پہلے دور میں سیز فائر پر اتفاق ہوا۔ جس کے بعد اب لانگ مارچ اورکارکنوں کی رہائی پر بات ہو گی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں دہشت گردی کے مقدمات والوں پر نہیں صرف ایم پی او کے تحت حراست میں لیے کارکنوں پرمذاکرات

ہوں گے جبکہ حکومتی کمیٹی لانگ مارچ کی منسوخی پر زور دے رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کو دوسرا دور شام کو ہو گا۔ذرائع کے مطابق دونوں حکومتی نمائندے مذاکرات کی کامیابی کے لیے کافی پُر اُمید ہیں کیونکہ مذاکرات کا پہلا دور بھی تین سے چار گھنٹے کا ہوا تھا جس میں کافی چیزیں طے کر لی گئی تھیں۔ پہلے دور میں سیز فائر کے تحت دونوں طرف سے سیز فائز پر عمل کیا گیا۔اس سے قبل اپنے وڈیو بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ بات چیت چل پڑی ہے ، شیخ رشید پہلا دور بہتری سے مکمل ہوا ہے ، انہوں نے 11 یرغمالی پولیس افسران و اہلکاروں کو چھوڑ دیا ہے، 192 دھرنوں میں سے ایک دھرنا رہ گیا تھا اس میں بھی بہتری آگئی ہے۔ ٹی ایل پی کے لوگ مسجد رحمتہ اللعالمین میں جاچکے ہیں اور پولیس بھی پیچھے ہٹ گئی ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کامیابی سے مذاکرات کئے ہیں، اللہ سے امید ہے ٹی ایل پی سے معاملات خوش اسلوبی سے طے جائیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران کئی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات ملی ہیں، واقعے پر آج ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں