موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس پھر معطل

لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس معطل کردی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے ۔موبائل فون سروس محکمہ داخلہ کی ہدایت پر معطل کی گئی ہے۔۔سکیم موڑ ،بندروڈ، بکرمنڈی اور نواح کے علاقے بھی شامل ہیں جہاں پر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کی گئی ہے ۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش تحریک لبیک کے پرتشدد مظاہروں کی روک تھام اور اداروں اور پولیس

اہلکاروں پر تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے کی گئی ہے۔دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔جمعرات کے روز وفاقی وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔اس سے قبل تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کیلئے وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری لی گئی تھی۔ کابینہ ڈویژن نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کی منظوری دی۔ وزارت داخلہ نے گزشتہ روز مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کیلئے سمری تیار کی تھی، سمری کا مسودہ وزیراعظم عمران خان کو بھیجا گیا تھا جو انہوں نے منظور کر لیا تھا۔پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پابندی کی سفارش کی تھی، جس کے بعد گزشتہ روز وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کے روز وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جارہی ہے، یہ فیصلہ اینٹی ٹیرارزم ایکٹ 1997ء 11 (بی) کے تحت کیا گیا ہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button