نیکٹا رپورٹ میں ٹی ایل پی کو قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نیشنل کاؤنٹر ٹرارزم اتھارٹی (نیکٹا) اور محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے حکومتی رٹ تباہ کردی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کے چھ کے قریب اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ ٹی ایل پی کے حالیہ احتجاج کے نتیجے میں نیکٹا، محکمہ داخلہ پنجاب، اسپیشل برانچ پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور وزارت داخلہ اور خارجہ امور نے ٹی ایل پی کو دہشت گردی کا نیا دور قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی تشدد اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور

کہا کہ یہ اب حکومتی رٹ کو تباہ کررہی ہے۔اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ہمارے اہم اداروں کی سفارشات کے بعد ہم نے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کی ہے جس میں ٹی ایل پی پر فوری پابندی عائد کرنے کا کہا گیا۔اس ضمن میں نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا نام کالعدم جماعتوں میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ان سفارشات کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے اپنا نوٹ وزارت داخلہ کو بھجوایا ۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی سفارشات میں کہا گیا کہ ٹی ایل پی نے گذشتہ چار سال میں اپنے غیرقانونی اقدامات سے افراتفری کا ماحول پیدا کیا ۔ اب اس کے رہنما اور ورکرز صوبائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ کہ گذشتہ روز حکومت پاکستان نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جارہی ہے، یہ فیصلہ اینٹی ٹیرارزم ایکٹ 1997ء 11 (بی) کے تحت کیا گیا ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ جبکہ ٹی ایل پی پر پابندی کے حوالے سے وزارت داخلہ کی تیار کردہ سمری سرکولیشن کے ذریعے کابینہ سے بھی منظور کروائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں