تحریک لبیک پر پابندی سے متعلق معروف قانون دان اعتزاز احسن کی رائے سامنے آگئی

لاہور(نیوز ڈیسک) سینئرقانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں بطور سیاسی پارٹی رجسٹر ہی نہیں ہوسکتیں، ٹی ایل پی سے متعلق دیکھنا ہوگا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے یا نہیں، پہلے بھی سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہے۔دہشتگرد تنظیمیں بطور سیاسی پارٹی رجسٹر ہی نہیں ہوسکتیں۔ ٹی ایل پی سے متعلق دیکھنا ہوگا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے یا نہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ پہلے نیپ پر بھی پابندی لگ چکی ہے، لیکن بعد میں وہ عوامی نیشنل پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور حمزہ مسلم لیگ ن لندن کو انکار نہیں کرسکتے۔مسلم لیگ ن لندن کا تاثر ایم کیو ایم الطاف حسین جیسا ہی ہے۔مولانا فضل الرحمان میں وقت کے مطابق بہت سی آوازیں بولتی ہیں۔ شوکاز نوٹسز بھی لندن سے جاری ہورہے ہیں۔ دوسری جانب سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی سوچ خطرناک ہے۔ مسئلے کا حل پابندی نہیں بات چیت ہے۔ ایسی مثال قائم نہ کی جائے کل حکومت وقت سیاسی جماعتوں پر بھی پابندی لگا دے۔ وزیراعظم اپنےعلاوہ باقی سب کو چوراور ڈاکو سمجھتے ہیں۔ہم نے نہیں پوچھا زرداری صاحب اور فریال تالپور کی ضمانت کیسے ہوئی۔ جتنی سزا ہم نے بھگتی ہے ہم پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ واضح رہے وفاقی حکومت نے ملک کے مختلف شہروں میں پر تشدد احتجاج کے بعد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس حوالے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں قرار داد پیش کرنے کیلئے تیار تھے، ٹی ایل پی ایسا مسودہ لانا چاہتی تھی جس سے انتہا پسندی کا تاثر ابھرتا، احتجاج کے دوران کوویڈ 19 کے مریضوں کیلئے منگوائی گئی آکسیجن روکی گئی، جی ٹی روڈ، موٹرویز بحال ہیں،تشدد میں دو اہلکار شہید اور 340 زخمی ہوئے ،پولیس، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کو علاقے کلیئر کرانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ،سوشل میڈیا پر سڑکیں بلاک کرنے اور بے امنی کے پیغامات دینے والوں کا قانون پیچھا کررہا ہے، جماعت کا میڈیا چلانے والے لوگ

سرینڈر کر دیں ،اگرآپ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کو مسائل سے دوچار کرسکتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو مسائل سے دوچار کریں گے، کبھی بھی اس جماعت کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کبھی خادم حسین سے ملا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی زیر صدارت امن وامان کی صورتحال پر اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امورنور الحق قادری ،سیکرٹری داخلہ، آئی جی پنجاب، چیف کمشنر اسلام آباد ، آئی جی اسلام آباد، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ اجلاس میں آئی جی پنجاب انعام غنی اور کمشنر راولپنڈی کی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے،اجلاس میں مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں