سربراہ تحریک لبیک سعد رضوی کے بعد جے یو آئی کے اہم رہنما کو گرفتار کرلیا گیا

مانسہرہ (نیوز ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو مانسہرہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے جمعیت کے سابق ایم پی اے کے گھر پر چھاپہ کے دوران انہیں گرفتار کیا۔ڈی پی او آصف بہادر کا کہنا ہے کہ مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری 3 ایم پی او کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، وفاقی کابینہ نے ریاست مخالف بیانات پر مفتی کی گرفتاری کا فیصلہ کیا تھا۔یاد رہے مفتی کفایت اللہ دو ماہ تک روپوش رہنے کے بعد منظرعام پر آئے تھے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رواں سال 3 جنوری کو مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔

مفتی کفایت اللہ کا شمار جمعیت علما اسلام کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انہیں سال 2019 سال اکتوبر میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد سرکٹ کے حکم پر ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔مفتی کفایت اللہ نے دسمبر سال 2019 میں نجی نیوز چینل کو انٹرویو میں پاکستان فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ چوری اگر پکڑنی ہے تو آرمی کے جنرلز کی بھی پکڑنی ہوگی۔اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ جنرل عاصم سلیم کو بھی پکڑا جائے اور ان کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے۔مفتی کفایت اللہ کو اس انٹرویو کے بعد سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پولیس نے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیا تھا بعدازاں پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد سرکٹ کے حکم پر ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں