چینی اسکینڈل کیس، عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کو بڑا ریلیف دیدیا

لاہور(نیوز ڈیسک) چینی اسکینڈل کیس میں عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔لاہور کے بینکنگ کورٹ کے جج امیر محمد چوہدری نے چینی اسکینڈل کیس میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی، اس موقع پر ایف آئی اے پراسکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری درخواست ضمانت میں موجودہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے ملازمین کے اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئے۔ وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم مزید اگلے ہفتے میں کچھ دستاویزات تفتیشی افسر کو دیں گے،

جہانگیر ترین اور علی ترین نے تفتیش جوائن کرلی ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری درخواست ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے دائرہ اختیار پر ایف آئی اے اور فریقین سے دلائل طلب کرلیے جب کہ سیشن کورٹ نے دونوں کی عبوری ضمانت میں 22 اپریل تک توسیع کی ہے۔عدالت میں پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین کے ہمراہ ممبران قومی اسمبلی اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی ساتھ تھی جب کہ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہانگیرترین نے کہا کہ ان کے خلاف ہونے والی انکوائری شفاف نہیں لہذا تحقیقات کے لیے غیرجانبدار کمیٹی بنائی جائے۔ جہانگیر ترین نے تحقیقاتی ٹیم پر جانب دار ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انکوائری ضرور کی جائے لیکن کسی ایک فون کال پر نہیں، کسی کے کہنے پر میرے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں، تحریک انصاف سے انصاف چاہئے، جب بھی عدالت بلائے گی پیش ہوں گا، قانون سے نہیں بھاگ رہے اور نہ بھاگیں گے، تحقیقات ضرور کریں لیکن شفاف ٹیم بنائیں جو متنازعہ نہ ہو، پی ٹی آئی میں ہوں، پارٹی میں نہیں ہوں گے تو کہاں جائیں گے ؟۔راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ہمارے کپتان اور لیڈر عمران خان ہیں، بلیک میلر نہیں، تحریک انصاف کے ہمدرد لوگ ہیں، عمران خان کے ساتھ کچھ لوگ ایسے ہیں جو جہانگیر ترین کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، پی ٹی آئی اور عمران خان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، عدالت سے سرخرو ہوں گے، سازش کر کے جہانگیر ترین کیخلاف مقدمات بنائے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں