حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی مزید مہنگی کرنے اور ٹیکسز لگانے کی یقین دہانی کرادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی مزید مہنگی کرنے اور ٹیکسز لگانے اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنے کے لیے یقین دہانی کرادی ، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ مزید 3 فیصد بڑھایا جائے گا ، کھانے پینے کی اشیاء ، ادویات اور تعلیم کے حوالے سے اشیاء پرٹیکس استثنیٰ کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلے مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 6 ہزار ارب روپے رکھا جائے گا ، اس ضمن میں 13 سو سے 14 سو ارب روپے کے مزید ٹیکسز لگائے جائییں گے یا پھر موجودہ ٹیکسز کی شرح میں ہی اضافہ کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ رواں برس ٹیکس وصولیاں 4600 ارب رہیں گی ، جب کہ رواں مالی سال کے 3 ماہ میں بجلی کی قیمت میں4 روپے97 پیسے اضافہ کیا جائے گا ، اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی کی مدمیں وصولیاں 450 ارب کی بجائے 511 ارب روپے سے زائد ہوں گی اور اگلے سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں 600 ارب روپے سے زیادہ وصولی کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کو کرائی گئی یقین دہانی میں کہا گیا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کا حجم 7ہزار 700 ارب روپے رکھا جائے گا ، علاوہ ازیں اگلے سال قرض اور قرض پر سود کی ادائیگیوں پر 3100 ارب روپے خرچ ہوں گے ، اگلے مالی سال کے دوران ترقیاتی پروگرام کا حجم 627 ارب روپے ہو گا۔ خیال رہے کہ چند روز قبل ہی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی جانب سے بھی پاکستان کے لیے مزید 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی گئی ، اس مد میں دی جانے والی قسط بجٹ سپورٹ کے طور پر جاری کی جائے گی ، آئی ایم ایف اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ قرض کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے جائزہ مکمل کرنے کے بعد دی ، جس کے بعد پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی قسط بجٹ سپورٹ کے طور پر جاری کی جائے گی ، آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے لیے جولائی 2019 میں پروگرام کی پہلی بار منظوری دی گئی ، ادائیگی سے توسیعی فنڈ کی سہولت کے تحت مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر کی فراہمی ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں