بھارت کیساتھ تعلقات بحال کیے جارہے ہیں یا نہیں ، وزیراعظم نے دوٹوک اعلان کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘ کے عنوان سے ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست بات چیت کے سیشن میں مسئلہ کشمیر پر بھارت کو کرارا جوا ب دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یقین دلاتا ہوں جب تک بھارت 5اگست کا اقدام واپس نہیں لیتا حالات معمول پر نہیں آئیں گے۔آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ، کے عنوان سے ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست بات چیت کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح ہم نے کشمیر کا مقدمہ لڑا،

چیلنج کرتا ہوں پچھلے پچاس سال میں کبھی کسی حکومت نے نہیں لڑا۔آزاد جموں و کشمیر سے ایک کالر کے سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات تب تک معمول پر نہیں آسکتے جب تک وہ پانچ اگست دوہزار انیس کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے اپنے غیر قانونی اقدامات کو واپس نہیں لیتا۔وزیراعظم نے کہا کہ صرف ایمرجنسی کی وجہ سے چینی اور کاٹن کی تجویز آئی تھی لیکن کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ایسا کوئی کام نہیں ہوگا جس سےکشمیری بھائیوں کو لگے کہ ہم بھارت سے تعلقات معمول پر لا رہے ہیں، مسئلہ کشمیر پر بھارت لچک نہیں دکھاتا تو ہم نارملائزیشن میں نہیں جاسکتے۔واضح رہے کہ دو اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے تجارتی روابط بڑھانے کے حوالے سے کابینہ کا انتہائی اہم مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا، وزیراعظم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کر کے اس پر مشاورت کی۔بعد ازاں مشاورتی اجلاس کے شرکا نے ای سی سی کی سفارشات کو مشاورت کے بعد مسترد کردیا، اہم اجلاس میں وزیراعظم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’پاکستان موجودہ حالات میں بھارت سےکوئی تجارت نہیں کرے گا‘، وزیراعظم نےحکومتی معاشی ٹیم کو کپاس اور چینی کی درآمدات کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ہدایت بھی کی۔بھارت سے روابط کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بھارت 5 اگست 2019 والی پوزیشن پر واپس نہیں چلا جاتا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال نہیں کیا جاتا، بھارت کے ساتھ کسی قسم کے کوئی بھی تعلقات بحال نہیں کیے جا سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں