پاکستان کے عوام کوبھارتی چینی کے عوض کشمیر کا سودا قبول نہیں،شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا پی ٹی آئی حکومت کا ایسا معاملہ تھا کہ ا س پر حکومت کو بھرپور سبکی کا سامنا کرناپڑا ہے۔اپوزیشن کی تنقید کے ساتھ ساتھ میڈیاپر دانشوروں نے بھی حکومت کے اس ایکشن پر خوب بھد اڑائی جس کے بعد حکومت کو مجبور ہو کراپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔اب اس فیصلے کی واپسی کو اپوزیشن اپنی جیت قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت اپنا دانشمندانہ فیصلہ قرار دے رہی ہے مگر عوام کے بارے میں کوئی بھی نہیں سوچتا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ افسوس ہوتا ہے کہ کس

قسم کے حکمران ملک پر مسلط ہو گئے ہیں۔ حکومت کو ملک کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ملک میں جوہورہا ہے سب کو نظر آرہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے معاملات ہم خود ڈیل کرلیں گے حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سمری جلد بازی میں کیوں منظور کی گئی۔چیئرمین ای سی سی نے بتا یا کہ وزیرا عظم نے سمری دیکھی جوکہ ملکی پالیسیوں سے متصادم تھی، مشیر تجارت نے بھارت سے تجارت کی سمری پیش کی اور ای سی سی نے اس کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکومت نے چینی کی قیمت کے بدلے کشمیر کا سودا کیا۔ پاکستان کے عوام کو چینی کے عوض کشمیر کا سودا قبول نہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا شیرازہ نہیں بکھررہا، کشمیر کے شیرازے کی فکر ہے، پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے معاملات ہم ڈیل کرلیں گے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو 2 روپے فی کلو سستی چینی کے بدلے میں کشمیر کا سودا منظور نہیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button