چینی اسکینڈل پر جہانگیر ترین اور ان کی فیملی کیخلاف سخت فیصلہ کرلیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک) ایف آئی اے نے جہانگیر ترین گروپ کے بزنس اور فیملی اکاؤنٹس کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق ۔ ایف آئی اے کے مطابق اے ٹی ایف مینگو فارم لودھراں، جے کے ڈائریز کے جہانگیر ترین مالک ہیں۔ علی ترین، رانا نسیم اور جے کے شگر ملز خانیوال کے اکاؤنٹ کا فرانزک ہو گا۔جہانگیر ترین کی تینوں بیٹیوں، جہانگیر ترین کے اکاؤنٹ اور اے کے ٹی شوگر مل کا اکاؤنٹ بھی فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا۔جہانگیر ترین گروپ کے سی ای او رانا نسیم کی رہائش گاہ 76 بی ڈیفنس فیز فائیو پر نوٹس موصول کروایا گیا۔ ایف آئی اے نے رانا نسیم کو

شوگرملز کے ساتھ ہونیوالے معاہدے کی تفصیلات لانے کا حکم دیا ہے جبکہ فیملی کو بیرون ملک بھیجی رقوم کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ ادھرکورٹ رپورٹر کے مطابق بینکنگ جرائم کورٹ پنجاب کی عدالت میں شوگر سٹہ میں ملوث 14 افراد کی ضمانتیں منظور کرکے ایف آئی اے کو انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔ہے عدالت نے ایف آئی اے کو 5 اور 6 اپریل کے لیے نوٹس جاری کر دئیے،ضمانت حاصل کرنے والوں میں بروکر خرم شہزاد،محمد ظہیر،محمداکرم بھلی ،محمود اختر سمیت چودہ ملزمان شامل ہیں جن کا موقف ہے کہ ایف آئی اے انہیں ہراساں کررہا ہے اوربنیاد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔دریں اثناء چینی اسکینڈل میں ملوث مافیا کا ساتھ دینے والے سٹہ بازوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ایف آئی اے نے چینی مافیا اور سٹہ بازوں کے واٹس اپ گروپوں سے مزید 392 بے نامی اکانٹس کا سراغ لگا لیا ، ایف آئی اے کے مطابق 392 اکاونٹس میں مجموعی طور پر 622 ارب کی ٹرانزکشنز کی گئی۔ان اکانٹس میں سے 7 ارب روپے منجمد کروا دئیے گئے ہیں، واٹس اپ گروپ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ لاہور سمیت ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد سٹہ باز ہیں جن کی چھان بین کا سلسلہ جاری ہے اور اسی ریکارڈ سے یہ معلومات بھی حاصل ہوئیںکہ چینی پر چھوٹے پیمانہ پر سٹہ کھیلنے والے بھی روزانہ 5 سے 10 لاکھ کماتے ہیں، اب تک 5 مقدمات کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ادھر جے ڈی ڈبلیو کے دو عہدیداروں سی ایف او رانا نسیم احمد اور محمد رفیق نے عبوری ضمانتوں کے لیے

بینکنگ کورٹ سے رجوع کیاہے۔اور عدالت نے ملزمان پر الزامات کاجائزہ لینے کے بعد عبوری ضمانت منظور کرلی۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم ان دونوں کا انتظار کرتی رہی تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں مگر جہانگیر ترین کی شوگر مل کے دونوں افسران ضمانت ہونے کے باوجود بھی پیش نہ ہوئے،دریں اثناء ایف آئی اے تحقیقاتی ٹیم کو شوگر سٹہ مافیا کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس میں بروکر صفیا ن سہیل کے اسلم بھلی اور محمود بھلی سے متعلق انکشافات سامنے آئے ہیں جس میں وہ واٹس اپ گروپس کے ذریعے سٹہ کے کاروبا رمیں ملوث ہونے اور اسلم بھلی اور محمود

بھلی کا تاندلیانوالہ شوگر ملز ، 2 سٹار شوگر ملز ، کسان /مدینہ شوگر ملز ، JDW گروپ ،کشمیر شوگر ملز ، حمزہ شوگر ملز کی انتظامیہ کے ساتھ باہم ساز باز ہوکر سٹہ کرنے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔بروکر صفیا ن سہیل کا کہنا ہے کہ وہ سلیم میلسی ، ندیم مرز ا، عباد اللہ ،ماجد ملک ، اسد بٹ ، خرم دوائی ، مولوی ظہیر اور بھلی گروپ کے ساتھ مل کر سٹہ کے دھندہ میں ملوث ہیں اور انہوں نے ملک ماجد کے ساتھ مل کر سٹہ بازی و فارورڈ بکنگ کر نے کا بھی اعتراف کیا ہے جبکہ ایف آئی اے تحقیقاتی ٹیم کو سٹہ باز اسلم بھلی اور محمود بھلی نے بھی اہم انکشافات کرتے

ہوئے بتایا کہ چینی کی فارورڈ سیل و بکنگ ایک ماہ قبل کرنے کے حوالے سے بتایا۔دوسری جانب شوگر ملز کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں کا معاملہ پر شوگر فیکٹریز کنٹرول آرڈیننس ختم ہونے پر کین کمشنر نے ملز مالکان کو عدم ادائیگیوں پر فوجداری کارروائیوں کا عندیہ دے دیا ہے۔ کین کمشنر نے کاشتکاروں سے عدم ادائیگیوں کی شکایات طلب کر لیں۔ کین کمشنر محمد زمان وٹو کا کہنا ہے کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول آرڈیننس ختم ہونے کے باوجود شوگر ملز پر کنٹرول ہے، آرڈیننس کے عرصہ کے دوران کسانوں کو واجب الادا ادائیگیاں نہ کرنے پر فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر ملز کو آرڈیننس کے عرصہ کے دوران کی ادائیگیاں ہر صورت کرنا ہوں گی، جن کاشتکاروں کے واجبات قابل ادا ہیں، وہ متعلقہ شوگر ملز کیخلاف کین کمشنر یا متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس سے فوری رجوع کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں