آئی ایم ایف سے مذاکرات میں حکومت نے سب سے بڑی غلطی کہا کی،سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے نشاندہی کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے حکومت کی جانب سے آئی ایم سے مذاکرات میں کی جانے والی غلطی کی نشاندہی کر دی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا حفیظ شیخ کو چاہیے تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات مرحلہ وار کرتے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام مرحلہ وار کرنا چاہئے تھا،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ٹھیک طریقے سے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام ملک کے عوام کیلئے ٹھیک نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو کیا مجھے کوئی پنجرے میں بند نہیں کر سکتا، اگر مجھے عہدہ ملا تو عوام کی بہتری کیلئے کام کروں گا۔شوکت ترین نے کہا کہ کسان مر رہے ہیں، زراعت میں بھی اصلاحات لانی ہونگی۔ہمیں ٹیکس نہ دینے والو کو جیل میں ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ سوچ بدلنے کیلئے حکومتی ٹیم تبدیل کی گئی ہو۔واضح رہے کہ حکومت نے حفیظ شیخ سے وزارت خزانہ کا قلمندان لے کر حماد اظہر کو سونپ دیا تھا، جس کے بعد یہ قیاص آرائیاں کی جانے لگیں کہ حماد اظہر کو عارضی طور پر وزیر خزانہ بنایا گیا ہے، جبکہ حکومت شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانا چاہ رہی ہے۔بعدازاں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت نے شوکت ترین کو کسی قسم کی کوئی آفر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شوکت ترین کو وزارت خزانہ کی آفر کی خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں، ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ دوسری طرف شوکت عزیز نے کہا تھا کہ حکومت جب تک میرے سے نیب کے کیسز ختم نہیں کرتی، میں حکومت کی جانب سے کوئی بھی عہدہ یا وزارت قبول نہیں کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں