شوکت ترین نے حکومتی ٹیم کا حصہ بننے کیلئے بڑی شرط رکھ دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ماہر اقتصادیات شوکت ترین نے حکومت کی معاشی ٹیم کا حصہ بننے کے لیے شرط کر رکھ دی۔سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اے آروائی نیوز سےخصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب ‏کیسزکےفیصلوں تک حکومتی عہدہ قبول نہیں کروں گا۔شوکت ترین نے کہا کہ مجھےپہلےبھی معاشی ٹیم میں شامل ہونےکی پیشکش ہوتی رہی جب تک ‏کیسزکافیصلہ نہیں ہوتاحکومتی ٹیم میں شامل نہیں ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ میرےکیسزپرفیصلےآچکےہیں جن پرنیب اپیلیں دائرکرچکی ہے، نیب اپیلیں ختم ‏ہونےپرمعاشی ٹیم میں شامل ہونےکا سوچ سکتا ہوں۔واضح رہے کہ اس سے قبل خبر

سامنے آئی کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترين کو مشير خزانہ بنائے جانے کا امکان ہے، انہیں سینیٹ کا الیکشن لڑوانے کی بھی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق اہم حکومتی شخصیت نے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین سے رابطہ کرکے انہیں مشیر خزانہ کے عہدے کی پیشکش کی۔ بتایا گیا ہے کہ شوکت ترین وزیرخزانہ رہ چکے ہیں۔ شوکت ترین معاشی ٹیم کے اہم اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ شوکت ترین حماد اظہر کے ساتھ مشیر خزانہ کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ شوکت ترین کی مشیرخزانہ تعیناتی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔یاد رہے کہ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے ‏اور ان کی جگہ حماد اظہر کو نیا وزیر خزانہ بنا کر اضافی چارج دے دیا ہے، حماد اظہر کے پاس ‏پہلے ہی وزارت صنعت و پیداوار کا قلم دان ہے۔حفیظ شیخ کو مہنگائی کی وجہ سے وزارت خزانہ کے عہدے سے ہٹایا گیا، اس سلسلے میں شبلی ‏فراز نے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان مطمئن نہیں تھے اور پریشان تھے، ‏جب کہ حماد اظہر وزیر اعظم عمران خان کے وژن کو آگے لے کر چلیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر وزارتوں میں بھی رد و بدل کا امکان ہے، شبلی فراز کو وزارت پٹرولیم کا ‏قلم دان اور فواد چوہدری کو بھی اضافی ذمہ داری دیے جانے کا امکان ہے۔اطلاعات اور نشریات کی وزارت کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے پر مشاورت ہو رہی ہے، امکان ہے کہ ‏دونوں کے الگ الگ وزیر مملکت لائے جائیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button