پی ڈی ایم استعفوں کی بجائے اجتماعی گرفتاریوں پر غور کرے، آصف زرداری کا فضل الرحمن کو مشورہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفے دیے جانے سے حکومت مزید مضبوط ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈیڑھ سو ارکان قومی اسمبلی اور کارکنوں کی جیل بھرو تحریک حکومت کو گھٹنوں پر لا سکتی ہے۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو کہا کہ پی ڈی ایم استعفوں کی بجائے اجتماعی گرفتاریوں پر غور کرے۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) استعفوں کی بجائے اجتماعی گرفتاریوں پر غور کرے۔

پی ڈی ایم کے ڈیڑھ سو ارکان قومی اسمبلی اور کارکنوں کی جیل بھرو تحریک حکومت کو گھٹنوں پر لا سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق سربراہ پیپلزپارٹی آصف زرداری کی سابق ٹکٹ ہولڈر فیصل میر سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ، سابق صدر آصف زرداری نے جیل بھرو تحریک کی تجویز پیش کردی۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) استعفوں کی بجائے اجتماعی گرفتاریوں پر غور کرے، پی ڈی ایم کے ڈیڑھ سو ارکان قومی اسمبلی اور کارکنوں کی جیل بھرو تحریک حکومت کو گھٹنوں پر لا سکتی ہے، ارکان قومی اسمبلی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کے ہزاروں کارکن جیلیں بھریں گے تو حکومت کے خلاف تحریک کا مومینٹم بنے گا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک بھر میں عوام سڑکوں پر نکلے تو حکومت پر دباو بڑھایا جا سکے گا۔ استعفے دینے سے حکومتی پارٹی مضبوط، اپوزیشن کی جماعتیں کمزور ہو جائیں گی۔واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے گزشتہ اجلاس میں آصف زرداری نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے سے انکارکر دیا تھا، جس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا لانگ مارچ بھی ملتوی کر دینے کا اعلان کیاتھا۔ پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کر دیے جانے کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات واضح ہو گئے تھے۔ اب مولانا فضل الرحمان کو سابق صدر آصف زرداری نے استعفوں کی بجئاے اجتاعی گرفتاریوں پر غور کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button