الطاف حسین کو وطن واپس لانے کی تیاریاں ، وفاقی حکومت نے بڑاقدم اٹھالیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے بانی ایم کیو ایم کو برطانیہ سے پاکستان لانے کی منظوری دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کو برطانیہ سے پاکستان لانے کی منظوری دے دی ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطاب ایف آئی اے کی درخواست پروزارت داخلہ نے ایم کیو ایم کے بانی کو پاکستان واپس لانے کی اصولی منظوری دی ہے۔ایف آئی اے کی درخواست پر برطانیہ میں مقیم افتخار حسین اور محمد انور کو بھی پاکستان لانے کی منظوری دی گئی ہے۔ پاکستان نے عمران فاروق قتل کیس میں برطانیہ سے مجرم

قرار دیے گئے بانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)، ان کے قریبی عزیز افتخار حسین اور محمد انور کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ا۔حکومت نے برطانوی حکام کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے تعاون کے سبب قاتلوں کو سزائیں ہوئیں، اب برطانیہ تعاون کرتے ہوئے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچائے۔خیال رہے کہ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ 18 جون کو سنایا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ہونے والے تینوں ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید اور مقتول کے ورثاکو 10،10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کیس میں اشتہاری ملزمان بانی ایم کیو ایم اور ان کے عزیز افتخار حسین سمیت محمد انور اور کاشف کامران کے بھی دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔اد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کو برطانیہ میں قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی ای) نے 5 دسمبر 2015ء کو پاکستان میں اس قتل کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو گرفتار کیا گیا۔تینوں ملزمان پر 2مئی 2018 کو فرد جرم عائد کی گئی جب کہ 4 ملزمان بانی متحدہ، محمد انور، افتخار حسین اور کاشف کامران کو اشتہاری قرار دیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.