مولانا فضل الرحمن کو بڑا جھٹکا، ایک اور اہم رہنما نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ ایک اور رہنما نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کو ایک اور دھچکا لگ گیا۔سابق صوبائی وزیر ابرار تنولی نے جے یو آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ابرار تنولی کا کہنا ہے کہ ابھی کسی دوسری جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔وقت آنے پر ورکرز کی مشاورت سے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کروں گا۔جے یو آئی ف کے سابق رہنما مولانا شیرانی کا جےیوآئی پاکستان کو جےیوآئی(ف) سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کبھی جےیوآئی(ف) یا فضل الرحمان گروپ کا حصہ نہیں رہے، ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستورکے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستورکے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔ہمارا کوئی بھی رکن قرآن وسنت کے منافی کوئی اقدام نہیں کرےگا۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ صداقت اوردیانت سے خالی ہے۔ ہمیں اکابرین سے سیاست وراثت میں ملی ہے۔ یہ تمام اراکین اب اس جماعت کے رکن نہیں رہے۔بلکہ جےیوآئی پاکستان کو جےیوآئی(ف) سے الگ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم کبھی جےیوآئی(ف) یا فضل الرحمان گروپ کا حصہ نہیں رہے، ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستورکے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دعوت کا محور تین باتیں ہیں، سچ بولو، سچ کا ساتھ دو ، جھوٹ نہیں بولیں گے، کسی ساتھی کو کسی کام کیلئے مجبور نہیں کیا جائے گا، حق کو چھپانے کیلئے باطل نہیں کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان بھٹک چکے ہیں،ہم ان کا ساتھ نہیں دیں گے، ہم مایوس نہیں ہوں گے بلکہ فریضے کیلئے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہما ر ی جماعت کیلئے سات اصولی نکات ہوں گے ، جبکہ چار نظم ہوں گے۔مولانا شیرانی نے کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل میں3 نکات ہوں گے۔ کوئی بھی ساتھی قرآن و سنت کےخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائےگا۔ کسی ساتھی کو بھی کسی کام پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔ تمام ساتھیوں کو ترغیب دلائیں کہ وہ جماعت کیساتھ رابطے نہ توڑیں اورضد نہ کریں۔ ہمارے بارے میں لوگ جو بھی کہیں ان کو ہم برداشت کرکے سنتے رہیں۔ فضل الرحمان گروپ کے ساتھ ہمارے پروگرام پر ہماری شرطیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں