عمران خان آپ ہمارا واحد سہارا ہیں، متاثرین مچھ کی وزیراعظم سے گفتگو

کوئٹہ(نیوز ڈیسک)مچھ میں شہید کر دیے جانے والے مزدوروں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عمران خان ان کا آخری سہارا ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہفتے کے روز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ پہنچے اور شہداء سانحہ مچھ کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر متاثرین نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی کئی وزراء آئے اور گئے، عمران خان آپ ہمارا آخری سہارا ہیں۔عمران خان نے متاثرین کے مطالبات پورے کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ ہزارہ برادری کے متاثرین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ فکر نہ کریں آپ سے تمام وعدے پورے کریں گے۔

سانحہ مچھ کے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہرارہ کمیونٹی کے ساتھ یہ پہلا واقعہ نہیں، آپ کے ساتھ بڑے سانحے واقعے ہوئے۔ اور بہت سے لوگ شہید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی پر حملہ افسوسناک ہے، ہزارہ برادری کےساتھ ظلم پردکھ اورافسوس ہے۔ ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کیلئےاقدامات کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کی نسل کشی کی جارہی ہے۔پچھلی بار جب مذمت کی تو انہوں نے مجھے دھمکیاں دی۔ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کرنے والے لوگوں کی تعداد 35 سے 40 ہے، ہم فرقہ وارانہ فساد پھیلانے والوں کے پیچھے جائیں گے۔ ہم سیکیورٹی فورسز کا ایک سیل بنارہے ہیں جو آپ کو مکمل پروٹیکشن دے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم شہدا کے لواحقین اور ہزارہ کمیونٹی کو اعتماد دلانا چاہتے ہیں،ایک عام شخص اور وزیراعظم کے معاملات میں فرق ہوتا ہے،میں نے اسی وجہ سے کہا تھا کہ آپ شہدا کی تدفین کریں میں آپ کے پاس آجاؤنگا۔ میں ایک ایک چیز دیکھ رہا تھا اور وفاقی وزرا سے مسلسل رابطے میں تھا،شکریہ کہ آپ نے ہماری بات مانی۔ ساری قوم ہزارہ برادری کے ساتھ کھڑی ہے، میری حکومت اور صوبائی حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘شہدا کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے دیے گئے ہیں، وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ہزارہ برادری پر ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے اور 22 سالوں سے جو ہزارہ قوم کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا ازالہ کریں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ملاقات میں وزیر اعظم سے بلیک میلنگ والے جملے پر احتجاج

ریکارڈ کرایا گیا، عمران خان نے وضاحت کی کہ انہوں نے بلیک میلنگ والا جملہ پی ڈی ایم کے قائدین سے متعلق کہا تھا’۔آغا رضا نے کہا کہ ‘وزیر اعظم کو بڑا مان کر شہدا نے انہیں کوئٹہ بلایا تھا، 6 دنوں سے جو دھرنے کے پلیٹ فارم سے بات کر رہے تھے وہ شہدا کی ترجمانی کر رہے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘لواحقین کی جانب سے گزشتہ روز فیصلہ ہوا تھا کہ خالق ہزارہ کو وزیراعظم سے ملاقات میں شامل نہ کیا جائے، جبکہ لواحقین کا مطالبہ تھا جن لوگوں نے اس دھرنے کے خلاف بات کی ان کو ملاقات میں نہ بلایا جائے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں