سانحہ مچھ ، ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کیلئے اسپیشل فورس تعینات کرنے کا حکم

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکم دیا ہے کہ ہزارہ برادی کی سیکیورٹی کے لیے ایک ایگ سے اسپیشل فورس تعینات کی جائے ، ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف کی طرف سے اہم ایجنسیوں کو سات دن کے اندر دہشت گردوں کی نشاندہی کرکے انہیں سزائیں دینے کا حکم بھی دے دیا گیا جب کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ہزارہ برادری سے اظہار تعزیت کرنے کے لیے کوئٹہ جائیں گے۔

عارف حمید بھٹی کے مطابق بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے یہ تقریباً 25 سال سے ایسا کررہا ہے ، اس عمل میں اس کے ساتھ چند ایک مقامی شر پسند عناصر بھی شامل ہیں جو کہ بلوچستان میں امن عمل کو خراب کرنے کے خواہاں ہیں۔یہاں واضح رہے کہ ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کردی گئی ، سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ ہزارہ برادی کے خلاف ہونے واقعات میں ملوث ملزمان کی نشاندہی پہلے سے ہوگئی ہوئی ہے ، تحقیقات میں یہ واضح تھا کہ را یا این ڈی ایس مل کر بلوچستان میں کارروائیوں میں ملوث ہے یہاں تک کہ وہ ٹارگٹ بھی خود ہی سلیکٹ کرتے ہیں ، وہ پاکستان میں اپنی پراکسی کی وجہ سے آپریٹ کرتے ہیں جن میں ٹی ٹی پی ، لشکر جھنگوی العالمی ، جیش الاسلام شامل ہیں ، جس کی وجہ سے پاکستان کو تو بہت زیادہ نقصان ہوا لیکن ان دہشت گرد تنظیموں کے لوگ بھی مارے گئے ، لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں نے افغانستان میں خود کو کہیں ایک بار پھر سے منظم کرلیا ہے۔نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کو بھی پہلے والے تسلسل کے ساتھ جوڑیں تو جس میں تقریباً 80 ہزار پاکستانیوں نے جانیں دی ہیں ، دہشت گردی کی جو بنیاد ہے وہ نائن الیون کے بعد جو اس ملک میں شروع ہوئی ہے وہ دہشت گردی پاکستان میں آئی اور اس دہشت گردی نے جہاں ہمیں اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا جب کہ انسانی جانوں کی صورت میں 80ہزار پاکستانیوں نے نذرانہ دیا ،

جس مین سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔واضح رہےکہ تین جنوری کے روز بلوچستان کے علاقے مچھ میں 11 کان کنوں کو کوئلہ فیلڈ میں مسلح افراد نے قتل کیا تھا جس کے بعد ان کے ورثا نے میتوں کے ہمراہ کوئٹہ میں 6 روز دھرنا دیا اور وزیراعظم کی آمد کا مطالبہ کیا۔سانحے پر کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں بھی دھرنے دیے گئے، کراچی میں 30 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے گئے جس سے شہر میں ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور فلائٹ آپریشن متاثر ہونے سے پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔حکومتی مذاکراتی ٹیم اور دھرنے کے شرکا میں گزشتہ رات مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد لواحقین نے میتیں دفنانےپر آمادگی ظاہر کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں