وفاقی وزیرعلی زیدی نے ہزارہ برادری کے مطالبات کی فہرست شیئر کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سانحہ مچھ کے خلاف مظاہرین کا احتجاج آج چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر علی زیدی نے ہزارہ برادری کے مطالبات کی فہرست شئیر کر دی۔ انہوں نے ٹویٹر پیغام میں ہزارہ برادری کے مطالبات اور معاہدے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رہے مطالبات اور یہ رہا معاہدہ جو پچھلے 2 دن سے تیار ہے! وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ اگرچہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں چکا سکتا، مگر یہ بتاتا چلوں کے معاوضے کی رقم میں کافی اضافہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے سوال اُٹھایا کہ تمام مطالبات تسلیم ہونے

کے باوجود بھی وہ کون سے عناصر ہیں جو ان بے گناہ شہیدوں کی لاشوں پہ سیاست کر رہے ہیں؟قبل ازیں اپنے ٹویٹر پیغام میں وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے کہا تھا کہ سانحہ مچھ کے لواحقین سے کے مطالبات 2 دن سے منظور ہوچکے ہیں ، وہ اپنے پیاروں کی تدفین چاہتے ہیں۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر شہداء کے اہلِ خانہ سے بات کی ہے ، وہ اپنے پیاروں کی تدفین چاہتے ہیں ، 2 دن سے ان کے مطالبات بھی منظور ہو چکے ہیں ، وقت کے ساتھ باقی چیزیں بھی کھل کے سامنے آ جائیں گی ، مجھ پہ لازم ہے کہ حق بات کا پرچار کروں ، میرے شجرے میں حسینؑ ابن علیؑ لکھا ہے۔یاد رہے کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 کان کنوں کو بلوچستان کے علاقہ مچھ میں تین دن پہلے دہشت گردوں نے قتل کردیا گیا تھا جس کے خلاف مظاہرین لاشیں سڑک پر رکھ کر گذشتہ چھ روز سے سراپا احتجاج ہیں۔مظاہرین نے میتوں کی تدفین کو وزیراعظم کی آمد سے مشروط کر رکھا ہے۔ قتل ہونے والوں میں طالب علم بھی شامل ہیں۔ مچھ واقعہ کے خلاف کراچی کے 29 مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں