مولاناشیرانی کے بعد شجاع الملک بھی فضل الرحمن کیخلاف بول پڑے، پی ڈی ایم رہنمائوں کا پول کھول دیا

پشاور(نیوز ڈیسک ) کے پی کے کے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نے مولانا شیرانی کے بیان کی حمایت کی ہے۔ مولانا شیرانی کے بعد کے پی کے سے بھی جے یو آئی کے رہنما شجاع الملک کا اختلافی بیان سامنے آ گیا۔شجاع الملک نے مولانا فضل الرحمان کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شجاع الملک کا کہنا ہے کہ پارٹی کی تنظیم سازی میں خیانت سے متعلق مولانا شیرانی کا موقف درست ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حفاظ حسین احمد کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ غلط ہے۔حافظ حسین کو ن لیگ کے بیانئے سے اختلاف پر عہدے سے ہٹایا گیا۔ حافظ حسی اکابرین میں سے ہیں،بات سننی چاہئیے تھی۔

حافظ حسین مولانا فضل الرحمن سے قبل جے یو آئی کے رکن بنے۔ اس کا مطلب ہے کوئی آواز اٹھائے گا تو اس کا یہی انجام ہو گا۔شجاع الملک نے مزید کہا کہ کارکن سمجھتے ہیں کہ مولانا خائن ہو چکے ہیں۔جو جو بالکل درست ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عوام پی ڈی ایم کی کال پر جلسوں میں شرکت نہیں کر رہے۔واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چئیرمین اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا اختر شیرانی نے پارٹی مخالف بیان دیا ہے۔ انہوں نے عرب ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موؤمنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر خود سیلیکٹڈ ہیں تو وہ عمران خان کو کیسے سیلیکٹڈ قرار دے رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان سے ہمیشہ جھوٹ بولنے کے معاملے پر اختلاف رہا اور آئندہ بھی رہے گا کیونکہ وہ جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں، موجودہ پی ڈی ایم تحریک ذاتی مفادات کے لیے قائم ہوئی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے لیے فضل الرحمان جلسے جلوس کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان اور جمعیت علماء اسلام پاکستان دونوں علیحدہ گروپ ہیں، کارکنان جے یو آئی ف کو نہیں بلکہ صرف جے یو آئی پاکستان کو جانتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں