برطانیہ سے نکالے جانے کے بعد نواز شریف کی اگلی منزل کا انتخاب کرلیا گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت لندن میں موجود ہیں،نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملک سے باہر بھیجا گیا تھا، ان کا علاج تو نہ ہو سکا تاہم کچھ ماہ بعد ہی نواز شریف نے لندن میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔حکومت بھی نواز شریف کو لندن بھیج کر پچھتا رہی ہے،نواز شریف کی وطن واپسی کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے۔کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو دوست ممالک کی مدد حاصل ہے جس میں سعودی عرب شامل ہیں۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ برطانیہ پر عالمی دباؤ ہے کہ وہ نواز شریف کو پاکستان نہ بھیجے۔

برطانیہ نواز شریف کو پاکستان کے حوالے نہیں کرے گا،ان کی اپنی وجوہات ہیں۔میرے خیال میں عدالت سے بھی نواز شریف کو واپس لانے کی اجازت نہیں ملے گی۔پاکستان کو برطانوی عدالتوں میں جانا پڑے گا اور بتانا پڑے گا کہ نواز شریف چور ہے،قانون کے مطابق انہیں واپس کیا جائے۔ظفر ہلالی نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے میں اسرائیل اور انڈیا لابی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف پاکستان واپس نہ آئیں۔ظفر ہلالی نےمزید کہا کہ اگر نواز شریف کا ویزا ایکسپائر ہو جاتا ہے اور انہیں برطانیہ سے جانے کے لیے کہا جاتا ہے تو پھر سعودی عرب ان کی اگلی منزل ہو گی جہاں ایک اور پیلس نواز شریف کو خوش آمدید کہے گا۔نواز شریف کو سعودی عرب میں ویلکم کیا جائے گا۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اب مختلف ہیں ۔۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خبر سامنے آئی تھی کہ نواز شریف نے لندن سے سعودی عرب منتقل ہونے کی کوشش کی ہے۔سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب میں مقیم ہونے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ قائد ن لیگ لندن سے سعودی عرب منتقل ہونے چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی جانب سے سعودی قیادت سے اجازت کیلئے باقاعدہ درخواست بھی کی گئی۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ قائد ن لیگ کی درخواست پر سعودی قیادت نے صاف انکار کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں