احسان اللہ احسان کی دوران حراست بیٹے کے ساتھ تصویرسامنے آگئی

پشاور (نیوز ڈیسک) پاک فوج کی حراست میں رہنے والے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی دوران حراست اپنے بیٹے کے ساتھ ایک تصویر ٹویٹر پر وائرل ہوئی تو سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میرے والد کو فرد جُرم عائد ہونے سے قبل ہی گرفتار کر لیا گیا، ہمیں (بحیثیت ان کی اولاد) ان سے ملنے کے حقوق حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں لڑنا پڑا لیکن پھر بھی ہمیں روک دیا گیا۔ان کے پاس ان کی ادویات اور انسولین کے لیے کوئی فریج موجود نہیں تھی،

اور تو اور ان کے پاس موبائل فون بھی موجود نہیں تھا۔ لیکن یہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرنے والے اس شخص کو اس کے معجزانہ فرار سے قبل یہ سب کچھ دیا گیا۔خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی پاک فوج کی حراست میں ہونے کے دوران بیٹے کے ساتھ تصویر ایک صحافی نے ٹویٹر پر شئیر کی تھی اور لکھا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے جیل روڈ پشاور پر ایک گھر میں حراست کے دوران اپنے بیٹے محمد عباس خان کے ساتھ تصویر شئیر کی۔یاد رہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے 17 اپریل 2017ء کو ایک پریس کانفرنس میں احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل میں ہونے کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد 26 اپریل کو ان کا اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔ اپنے اعترافی بیان میں احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔انہوں نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا اور کہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔انہوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور وہ بعد میں تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان بھی رہے۔ جس کے بعد فروری 2020ء میں پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو پیغام میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔لیکن پاک فوج کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر گردش

کرنے والے اس مبینہ آڈیو پیغام میں کہا گیا تھا کہ پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے بعد میں نے خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا‘۔ میں نے تین برسوں تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سکیورٹی اداروں نے مجھے بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔احسان اللہ احسان نے اس مبینہ آڈیو پیغام میں کہا کہ تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوئے۔ دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری کو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ مبینہ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اور اپنی گرفتاری اور فرار کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں