پی آئی اے سے 7ہزار ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کے لیے ری اسٹرکچرنگ پلان2021ء تیار کرلیا گیا ۔ پلان کے تحت فی طیارہ ملازمین کی تعداد500 سے کم کر کے 250 کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کو خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت نے پلان بنا لیا ۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان کے مطابق قومی ایئرلائن کاہیومن ریسورس کاسالانہ خرچہ 24 ارب سے زائد ہے۔پی آئی اے کے پاس 29 طیاروں کے لیے 14 ہزار 500 ملازمین ہیں۔ ری اسٹرکچرنگ پلان کے تحت فی طیارہ ملازمین کی تعداد500 سے کم کر کے 250 کی جائے گی۔دسمبر 2020 میں 3500 ملازمین کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اسکیم کے ذریعے فارغ کیا جائے گا۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ جبری ریٹائرمنٹ اسکیم2021میں مکمل ہوگی جس میں کارکردگی کومدنظر رکھا جائے گا۔ری اسٹرکچرنگ پلان کے تحت پی آئی اے ہیڈکوارٹر کو اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق بھی اقدامات کیے جائیں گے۔جون2021میں پی آئی اےکاشعبہ انجینئرنگ مکمل طورپراسلام آباد منتقل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے تمام 13 شعبہ جات سے ملازمین نکالے جائیں گے۔ جبکہ پی آئی اے کو خسارے سے نکالنے کے لیے ملازمین کے فری ٹکٹس میں بھی کمی کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب کو مطلوب اور انکوائری کا سامنا کرنے والے پی آئی اے ملازمین کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں