بھارتی اشتعال انگیزی ، پاکستان نے معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھادیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے بھارت کی طرف سے یواین فوجی مشن پر حملے ، لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی اور بلا اشتعال فائرنگ کا معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھادیا ، بھارتی حملے کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھارتی اشتعال انگیزی کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا گیا ہے۔دفترخارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان کی طرف سے یو این ملٹری آبزرور گروپ کی گاڑی پر حملے کا معاملہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے خط کے ذریعے اٹھایا ، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج

نے اقوام متحدہ کے مبصرین اور ان کی گاڑی کو جان بوجھ کرنشانہ بنایا ، حملے کا مقصد پاکستان کے خلاف فاسٹ فلیگ آپریشن کی تیاری لگتا ہے تاہم پاکستان کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دے گا۔بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں بھارت کی طرف سے شہریوں کو نشانہ بنانے اور ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے بھی انتہا پسند مودی سرکار کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے اگر اب کسی فالس فلیگ آپریشن کی غلطی کی تو اس کا بھرپور جواب دیں گے ،عالمی برادری پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بھارت نے غلطی کی تو منہ توڑ جواب دیں گے ، دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ بھارت اپنےاندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے فلیگ آپریشن کی کوشش کرسکتاہے ، عالمی برادری پر واضح کرنا چاہتےہیں کہ بھارت نےفالس فلیگ آپریشن کرنےکی کوشش کی توپاکستان منہ توڑجواب دے گا۔بھارت کی جانب سے ایل او سی پر یو این کی گاڑی پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ یو این گاڑی پر فائرنگ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ، بھارت نے ایل او سی پر جان بوجھ کر یو این کی گاڑی کو نشانہ بنایا ، پاکستان بھارتی رویےکی شدیدمذمت کرتاہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2020ء میں بھارت نے 3 ہزار سے زائد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ، بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول پرجان بوجھ کر شہری آبادیوں کونشانہ بنایا جہاں رواں برس بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 ہزار 76 افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں