ترک ڈرامہ دکھا کر عربوں کو ناراض کرنے پر حکومت کڑی تنقید کی زد میں آگئی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرتجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ جب مشکل وقتوں کے عرب دوستوں کو اعتراض تھا تو ارطغرل کیوں دکھایا؟ اب ترکی اور ارطغرل سے کہیں اربوں ڈالر پاکستان میں لائے، کیونکہ سعودی عرب تو اربوں ڈالر زرِمبادلہ واپس لے جارہا ہے، اپنے سینما، تھیئٹربند، فنکار، گلوکار بھوکے لیکن یہاں ارطغرل چل رہے۔انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں حکومتی پالیسیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی جب سعودی عرب، یو اےای جیسے مشکل وقتوں کے دوستوں کو اعتراض تھا تو ہم نے ارطغرل کیوں دکھایا۔ اب سعودی عرب اپنے اربوں ڈالر زرِ مبادلہ واپس لے جارہا۔

اب کہیں ترکی اور ارطغرل کو اربوں ڈالر لائے پاکستان میں، اپنا سینما بند، تھیئٹر کا برا حال، فنکار، اداکار، گلوکار بھوکے اور یہاں ارطغرل چل رہے۔یاد رہے پاکستان نے سعودی عرب کو مزید ایک ارب ڈالر واپس کر دیئے۔ سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر قرض کی دوسری قسط واپس کر دی گئی۔ پاکستان سعودی عرب کو آئندہ سال جنوری میں مزید ایک ارب ڈالر ادا کرے گا۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے چین کی مدد سے سعودی عرب کو رقم واپس کی۔انٹرنیشنل پریس ایجنسی کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کو قرض کی دوسری قسط کے طور پر ایک ارب ڈالر ادا کر دیے اور اگلے ماہ مزید ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے لیے بیجنگ سے قرض حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رقم کی واپسی کے لیے ریاض کی طرف سے دباؤ ڈالنا غیر معمولی ہے، تاہم تاریخی طور پر قریبی دوست ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے میں تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13.3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور آئندہ ماہ سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کی ایک اور قسط کی ادائیگی کے بعد پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ وزارت خارجہ کے عہدیدار نے بتایا کہ چین ہمیں ریسکیو کرنے آگیا ہے۔ اسٹیٹ پہلے سے ہی چینی کمرشل بینکوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر بھیج چکے ہیں اور مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ماہ ادا کردیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں