فلسطینی اینکر کے سوال پر مولانا طاہر اشرفی رو پڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فلسطینی سرزمین کے ساتھ دُنیا بھر کے مسلمانوں کی خاص اُنسیت اور مذہبی لگاؤ ہے۔ کیونکہ یہاں پر مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ میں نماز کی سعادت حاصل کرے کیونکہ یہاں نماز پڑھنے کابے حساب ثواب ہے۔ تاہم غاصب اسرائیل کے قبضے کے باعث دُنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی یہ خواہش شرمندہ تعبیر نہیں ہو پا رہی۔پاکستانی قوم بھی اپنی دُعاؤں میں فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کے لیے ہر روز دُعاگو ہوتی ہے۔ فلسطینی ٹی وی چینل ’قناة الفلسطین الاخباریة“ کی جانب سے پاکستان علماء کونسل کے صدر مولانا طاہر

اشرفی کا ایک خصوصی انٹرویو لیا گیا ۔ اس لائیو انٹرویو کے دوران مولانا طاہر اشرفی ایک سوال پر رو پڑے۔تفصیلات کے مطابق فلسطینی چینل کے پروگرام ” صباح الخیر یا القدس “ میں خاتون اینکر نے جب طاہر اشرفی سے سوال کیا کہ ہمارے پاکستانی بھائی کب ارض قدس آئیں گے ؟ کیا آپ لوگو القدس کی زیارت میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ کیا اس کی تمنا کبھی کرتے ہیں ؟ ہم کب آپ لوگوں کو اپنی سرزمین میں دیکھیں گے ان جذباتی سوالات کے جواب دیتے ہوئے طاہر اشرفی روپڑے اور انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ان شاء اللہ عنقریب وہ دن آجائے گا کہ ہم مسجد اقصی ائیں گے۔مزید کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم اس جابر اور ظالم اسرائیل سے اجازت لے کر آئیں بلکہ ہم اس وقت آئیں گے جب فلسطین ایک آزاد ریاست بن جائے گی۔ ہم اہلِ فلسطین سے ویزہ لے کے مسجد اقصی کی زیارت کریں گے ۔ باوجود اس کے کہ اسرائیل کی طرف سے پاکستان ویزہ لے کے ہم وہاں جاسکتے ہیں لیکن ہماری حکومت نے اسرائیل ویزہ پر پابندی لگائی ہے کہ اس جابر ملک کی ویزے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں سے ویزہ لے کے مسجد اقصی کی زیارت کریں گے اور اپنے فلسطینی بھائیوں اور فلسطینی نوجوانوں سے بھی ملیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں