سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا کہا گیا ہے یا نہیں ،جانئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے کبھی بھی اسرائیل سے تعلقات کا نہیں کہا ہے،پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے مقابلے پر کوئی دوسرا فورم نہیں قبول کر سکتا،سعودی عرب پاکستان مشکلات کے آزمائے ہوئے دوست ہیں ۔عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے رازداری کے ضابطے کے پابند ہوتے ہیں ، سعودی عرب پاکستان مشکلات کے آزمائے ہوئے دوست ہیں ،

بعض قوتیں افواہ سازی کے ذریعے پاکستان کے تعلقات چین اور عالم عرب سے خراب کرنا چاہتی ہیں ، سعودی عرب ، پاکستان اور چین کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کیلئے ہندوستان اور بعض دیگر پاکستان دشمن قوتیں ملوث ہیں ، پاکستان ، سعودی عرب مشکلات میں آزمائے ہوئے دوست ہیں۔دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم اور مضبوط ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے وزٹ ویزوں سمیت تمام معاملات حل کی جانب ہیں۔و زیر خارجہ کے دورہ امارات سے بہت ساری افواہیں اور منفی خبریں ختم ہوجائیں گی۔ ترکی سمیت کسی بھی ملک پر ناجائز پابندیاں لگانے کے حامی نہیں ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز ، عمران خان اور امیر کویت سمیت بہت سارے اسلامی قائدین ہیں جو امت کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں قطر اور خلیج کے دیگر ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر پاکستان خوش بھی ہے اور امیر کویت کی کوششوں کا خیر مقدم بھی کرتا ہے۔اسرائیل نہ کوئی گیا نہ کوئی آیا ، پہلے اسرائیلی وزیر اعظم کے سعودی عرب جانے کی خبر پھیلائی گئی اور اب پاکستانی ذمہ دار کے اسرائیل جانے کی ، یہ سب امت میں تفرقہ ڈالنے کی سازشیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اتنا کمزور نہیں ہے کہ کوئی ہماری خارجہ و داخلہ پالیسی کو تبدیل کر ے۔ اسرائیل کے معاملہ پر نہ کسی نے دبائو ڈالا نہ ڈال سکتا ہے۔سعودی عرب نے کبھی بھی اسرائیل سے تعلقات کا نہیں کہا ہے۔ امیر محمد بن سلمان اور عمراننخان کے درمیان بھائیوں والا رشتہ ہے۔ 2021 میں پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔

معاشی ، اقتصادی ، دینی ، سیاحتی اور ثقافتی رشتے مضبوط ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے رازداری کے ضابطے کے پابند ہوتے ہیں ، خواہشات کو خبر بنانے کی کوشش کرنے والوں کو عالمی برادری کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا خیال رکھنا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ او آئی سی وزراء خارجہ کے اجلاس سے قبل افواہ پھیلائی گئی کہ کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو گی جبکہ او آئی سی میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کی،او آئی سی کے اجلاس میں

کشمیر کی قرارداد کے وقت کوئی ممبر غیر حاضر نہ تھا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے،پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے مقابلے پر کوئی دوسرا فورم نہیں قبول کر سکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ، ان کے ویڑن 2030 سے خوفزدہ قوتیں ان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم میں مصروف رہتی ہیں۔ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ پاکستان میرے دل میں بستا ہے لہذا جو قوتیں یہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہ پاکستان عرب ممالک کے تعلقات خراب ہوں گے ان کو خبر ہو کہ تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں