سانحہ آرمی پبلک اسکول کاغازی ولید خان برطانوی یوتھ پارلیمنٹ کا رکن منتخب

پشاور(نیوز ڈیسک)سانحہ آرمی پبلک اسکول کے غازی ولید خان برطانوی یوتھ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ولید خان کو علاج کے لیے چند سال پہلے بر طانیہ بھجوایا گیا تھا۔ اب تک بہادر طالبعلم کی 12 سرجرجیاں ہو چکی ہیں جن میں چہرے کی 6 بار پلاسٹک سرجری بھی ہو چکی ہے، ولید خان کو حال ہی میں برطانیہ میں یوتھ پارلیمنٹ کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔ولید خان سانحہ اے پی ایس میں زندہ بچ جانے والے کچھ بہادر طلبا میں سے ایک ہیں۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں ولید خان نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ میری عمر 12 برس تھی اور میں سکول ونگ کا سب سے چھوٹا بوائز ہیڈ تھا۔

میرا بوائز ہیڈ ہونا میرے والدین کے لیے قابلِ فخر بات تھی۔ولید خان نے بتایا کہ مجھ پر گولیاں برسانے والا دہشتگرد مجھ سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر تھا جب اس نے مجھے چہرے پر پہلی گولی ماری۔جب گولی میرے چہرے پر لگی تو مجھے بہت زیادہ درد ہوا۔ میرا منہ کھلا تھا اور اس سے خون رس رہا تھا مگر اس وقت بھی مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حقیقت ہے۔ گولیوں کی بوچھاڑ جاری تھی۔ انھوں نے میرے دوستوں کو سر، ہاتھ، ٹانگوں اور سینے میں میری آنکھوں نے سامنے گولیاں ماریں۔ سٹیج سے میں سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ میں اپنے ہم جماعت طالب علموں کو اپنے سامنے مرتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔ان میں کچھ جلد ہی جبکہ کچھ سسک سسک کر ہلاک ہوئے۔ اگرچہ ان کے مردہ جسم میرے سامنے پڑے تھے مگر میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ میرے دوست ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور مانتا بھی کیسے چند ہی لمحوں پہلے ہم ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ولید خان نے کہا کہ میں بالکل بے بس تھا اور اس وجہ سے مکمل طور پر اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔میں سٹیج پر پڑا تھا اور رینگ رینگ کر یہ کوشش کر رہا تھا کہ وہاں موجود کرسیوں کے پیچھے پناہ لے سکوں۔ اسی وقت ایک دہشت گرد نے مجھے حرکت کرتا دیکھ لیا۔ اس نے میرے چہرے پر کئی گولیاں برسائیں۔ مجھے گنتی بھول گئی کہ کتنی گولیاں ماری گئیں۔ میں نے سوچا کہ سب ختم ہو چکا ہے، اور میں سٹیج کے فرش پر مرنے جا رہا تھا۔

موت زیادہ دور نہیں تھی۔ مجھے اپنے وہ تمام وعدے یاد آ رہے تھے جو میں نے اپنے والدین سے کیے تھے کہ میں ڈاکٹر بن کر ان کی زندگی میں بہتری لاؤں گا۔مجھے معلوم تھا کہ میں اب انہیں کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا۔ اسٹیڈیم میں سناٹا چھا گیا تھا، کچھ دیر بعد شدت پسندوں نے اپنی توجہ اس بات پر مبذول کی کہ آیا کوئی زندہ تو نہیں۔ انھوں نے طالب علموں کو اپنی بندوقوں کی مدد سے ہلا کر یہ دیکھنا شروع کر دیا تاکہ اگر کوئی زندہ ہو تو اسے دوبارہ گولیاں ماری جا سکیں۔ وہ مجھ تک پہنچے۔ مجھے سینے میں پاؤں سے ٹھوکر ماری جس سے میں چیخ اٹھا۔اس نے میرے چہرے کی طرف دیکھا تو بری طرح مسخ ہو چکا تھا۔

میرا خیال ہے کہ انہوں نے مجھے اذیت ناک موت مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس انتظار کے بعد جو مجھے گھنٹوں طویل محسوس ہوا میں نے انھیں آڈیٹوریم سے واپس جاتے ہوئے سنا۔ ان کی سمت بچوں کے ونگ کی جانب تھی۔ میں نے، اپنی سانس کی گرمائش اور یہ جاننے کے لیے کہ میں زندہ ہوں، اپنا ہاتھ اپنے منہ کے سامنے رکھ لیا۔میں زندہ تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرا ڈھیر سارا خون ضائع ہو چکا ہے اور مجھے اپنے چہرے کا اندونی حصہ باہر ابلتا ہوا محسوس ہوا۔ مگر کسی نہ کسی طرح میں اب بھی دیکھ اور سن سکتا تھا۔ میرا دماغ کام کر رہا تھا۔ وہ واحد چیز جو اس دن کے حوالے سے

مجھے یاد نہیں وہ یہ تھی کہ میں ہسپتال کیسے پہنچا۔ شدت پسندوں نے میرا چہرا گولیاں مار مار کر اتنا خراب کر دیا تھا کہ جب مجھے ایمرجنسی روم میں لایا گیا تو مجھے زخمیوں کے بجائے لاشوں میں ڈال دیا گیا۔بہت سا خون ضائع ہونے کی وجہ سے میں مفلوج ہو چکا تھا۔ میں نے بولنے اور آواز نکالنے کی کوشش کی تاکہ لوگوں کو یہ بتا سکوں کے میں اب بھی زندہ ہوں مگر میرے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ ولید بتایا کہ اپنے نظامِ تنفس کو جاری رکھنے کی خاطر میں نے اس امید سے لمبے سانس لینے شروع کیے کہ کسی کی نظر مجھ پر پڑ جائے۔ میرے منہ میں بھر جانے والے خون کے بلبلے بننے شروع ہو گئے۔

بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک نرس نے مجھے ڈیڈ باڈیز میں ڈھونڈ نکالا۔ مجھے چہرے پر چھ جبکہ ٹانگ اور ہاتھ پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی۔ چہرے پر 6 گولیاں لگنے سے میری شناخت بھی مشکل تھی۔ حملے کے بعد جب مجھے ہسپتال لے جایا گیا تو میرے والد مجھے ڈھونڈنے کے دوران کافی مرتبہ گرتے رہے، ان کی تلاش جواب دینے لگی تو آخر میں ایک ڈاکٹر نے میرے والد کو کہا کہ وہاں کونے میں ایک بچہ پڑا ہوا وہ اپکا تو نہیں لیکن اس وقت بھی بابا نے مجھے نہیں پہچانا، 8 روز بعد جب مجھے ہوش آیا تو تب بھی شناخت مشکل تھی پھر میری ماں کو بلوایا گیا تو انہوں نے

میرا گھر میں پچپن کا جو نام لیا جاتا تو وہ پکارا جس پر میں نے ہاں میں جواب دیا جس سے میری شناخت ہوئی۔ولید خان نے کہا کہ حملے کے چند مہینوں بعد میرے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اور جسمانی چوٹوں کی وجہ سے میں ذہنی دباؤ اور ٹراما کے باعث مفلوج ہو گیا۔ میں نے کئی مرتبہ اپنے آپ کو خود کشی کرنے کے دہانے پر پایا۔ میں نے دعا کی کہ یہ سب حقیقت نہ ہو اور میرے دوست ابھی بھی زندہ ہوں۔ ہر روز اس واقعہ کو یاد کر کے میں روتا تھا۔میں اپنی اگلی سرجری کا انتظار کر رہا ہوں اور اسکول بھی جا رہا ہوں۔میں او لیول کے امتحان کی تیاری کر رہا ہوں۔ میں برطانیہ کی یوتھ پارلیمنٹ کا ممبر بھی ہوں۔ مجھے ممبر بنانے کا فیصلہ برمنگھم کے تمام سکولوں نے مشترکہ طور پر لیا تھا۔ ہم اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کو سنتے ہیں اور سال میں ایک مرتبہ ہم انھیں ہاؤس آف کامنز بھی لے کر جاتے ہیں۔ ولید خان کا کہنا تھا کہ میں صرف اپنے لیے نہیں جینا چاہتا بلکہ ان تمام بچوں کے لیے جینا چاہتا ہوں جو اس دن ہوئے حملے یا دیگر حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کے لوگ میرے دوستوں اور کلاس فیلوز کو کبھی نہ بھولیں، ان دوستوں کو جو مرنے کے لیے نہیں بلکہ پڑھنے کے لیے سکول آئے تھے۔ نئے دوست بنانا اچھا لگتا ہے مگر وہ جن کو میں کھو چکا ہوں میرے ذہن میں موجود رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں