سانحہ 16دسمبر سے متعلق نرس شبانہ رحمان نے آنکھوں دیکھا حال بتا کر ہر آنکھ نم کردی

پشاور(نیوز ڈیسک)سانحہ آرمی پبلک اسکول کو آج چھ برس ہو گئے ہیں لیکن اس سانحہ کو یاد کر کے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جس میں دہشتگردوں نے معصوم پھولوں پر گولیاں برسائیں اور انہیں شہید کر دیا تھا۔ اس اندوہناک سانحہ کی چھٹی برسی کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں گذشتہ بیس سال سے خدمات سر انجام دینے والی شبانہ رحمان نے 16 دسمبر 2014ء کو اسپتال میں لائے ایک زخمی بچے کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ میں اس بچے کو شاید کبھی نہیں بھول سکوں گی، وہ بارہ، تیرہ سال کا بچہ حافظ قران تھا۔جس کے سر اور

جسم کے مختف حصوں پر شدید زخم تھے، اسے گولیاں لگی تھیں، خون اس کے جسم سے بہہ رہا تھا ، اور حالت بہت خراب تھی لیکن حوصلہ پہاڑ جیسا تھا ، وہ مسلسل کلام کی تلاوت کر رہا تھا۔اس بچے کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ شبانہ رحمان نے بتایا کہ ڈاکٹر اور سٹاف اس بچے کا علاج کر رہے تھے لیکن وہ خاموشی سے صرف تلاوت کرتا رہا یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا۔میری زندگی میں یہ ایسا پہلا واقعہ تھا جس میں ایک مرتے ہوئے بچے نے اتنی بہادری کا مظاہرہ کیا ہو۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سانحہ آرمی پبلک اسکول میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں اور افراد کو اسپتال لایا گیا تو اُس وقت میں ڈیوٹی پر تھی۔ میں اسپتال کے ٹراما سینٹر میں ڈیوٹی دے رہی تھی اور میں نے بہت سارے زخمیوں کو طبی امداد بھی فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ میں بہت دباؤ کا شکار تھی کیونکہ میں خود بھی ایک ماں تھی اور وہ وقت میرے لیے بہت مشکل وقت تھا۔ جب میں ان بچوں کو طبی امداد فراہم کر رہی تھی تو خود مجھے اپنے بچے یاد آ رہے تھے۔۔ وہ بھی سکول گئے ہوئے تھے لیکن اس وقت میں نے اپنی ڈیوٹی پر بھرپور توجہ دی تھی۔ شبانہ رحمان نے بتایا کہ زخمیوں میں ایک بچہ ایسا بھی تھا جو بہت زخمی تھا لیکن بالکل نہیں رو رہا تھا۔میں حیران تھی کہ یہ بچہ بالکل خاموش ہے حالانکہ اسے گولیاں لگی تھیں اور وہ بہت ضبط کیے ہوئے تھا۔ لیکن جب اس بچے کے والدین ٹراما سینٹر میں داخل ہوئے اور بچے نے جیسے ہی انھیں دیکھا اس نے رونا شروع کر دیا تھا

اور پھر بہت رویا۔ شبانہ رحمان کا کہنا تھا کہ اس روز پیش آئے چند ایک واقعات تو ان کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں جو اکثر مجھے پریشان بھی کر دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے بعد میں اور میرے بچے اکثر خوفزدہ رہنے لگ گئے تھے۔ یاد رہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کو چھ سال بیت گئے مگر قوم کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ سفاک دشمن نے قوم کے ننھے معماروں کو نشانہ بنایا اور 132 بچوں سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد شہید ہوئے۔16دسمبر2014 کا سورج معمول کے مطابق طلوع ہوا۔ صبح دس بچ کر چالیس منٹ پر چھ دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔پشاور کی

فضا دھماکوں اور گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھی، جدید اسحلے سے لیس امن دشمنوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔علم کی روشنی پھیلانے والے اساتذہ نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کی فرض شناسی برسوں یاد رکھی جائے گی جو دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ دیوار بن کر کھڑی رہیں۔دہشتگردوں نے معصوم بچوں کے خواب توچھین لیے مگر اس سفاکیت سے قوم کا عزم کمزورنہیں ہوا۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم اور سیکیورٹی اداروں نے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اوران پر پاک دھرتی کی زمین تنگ کر دی۔معصوم بچوں پرحملہ

کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا اور ان کے سہولت کار بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی 525 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشتگرد پاک فوج کو آپریشن ضرب عضب اور خیبرون سے روکنا چاہتے تھے۔ سانحہ اے پی ایس کےاندوہناک سانحے کو سیاسی رہنماؤں نے انسانیت کے لئے تاریک دن قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ سانحہ اے پی ایس چھ سال پہلے قوم کی آنکھوں

میں آنسو لے آیا تھا، میں آنسو اسلام آباد پریس کلب میں روک نہیں سکاتھا، ان پھولوں نے جانوں کی قربانی دی اور توجہ دہشتگردی سے نمٹنے پردلائی، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ آج سے چھ برس قبل آرمی پبلک اسکول کے بچوں اور اساتذہ کیخلاف دہشت گردی کے بدترین حملے سے قوم شدید کرب اور صدمے سے دوچار ہوئی اور پوری قوم نے یکجا ہوکر ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ٹھانی۔ ہم پوری طرح پرعزم رہے اور اس حوالے سے قوم سے اپنے وعدے کی تکمیل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں