حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کی جانب سے بک کروائی گئی پرواز کو موصول کرنے سے انکار کردیا

لاہور(نیوز ڈیسک) نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ، حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کی جانب سے بک کروائی گئی پرواز کو وصول کرنے سے انکار کیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک برطانوی اخبار کی جانب سے نواز شریف کی پاکستان واپسی کے کوششوں کے حوالے سے تہلکہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی واپسی کا معاملہ عالمی تنازع بن گیا ہے۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے برطانیہ سے 40 افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس مقصد کیلئے خصوصی چارٹرڈ پرواز کا بھی انتظام کیا گیا۔

پرواز کیلئے برطانوی حکومت کی جانب سے 3 لاکھ پاونڈ کی رقم بھی جاری کی گئی۔ تاہم جب پاکستانی حکام سے پرواز کی کلیئرنس مانگی گئی، تو پاکستان کی جانب سے کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا گیا۔پاکستان کی جانب سے انکار کیے جانے کے بعد ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کو برطانیہ میں واپس ڈیٹینشن سینٹرز منتقل کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ کو بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنا ان کی ذمے داری ہے۔ واضح رہے کہ نواز شریف خرابی صحت کا بہانہ کر کے کچھ ماہ قبل عدالت سے خصوصی طور پر ضمانت حاصل کر کے علاج کے غرض سے برطانیہ چلے گئے تھے۔عدالت کی جانب سے نواز شریف کو علاج کیلئے صرف چند ہفتوں کی ضمانت دی گئی، تاہم قائد ن لیگ نے برطانیہ جانے کے بعد علاج کروانے سے گریز کیا۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود نواز شریف کے علاج کے حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس حوالے سے حکومت کو کہنا ہے کہ نواز شریف بیماری کا جھوٹا بہانہ کر کے برطانیہ گئے، جبکہ عدالت نے بھی نواز شریف کو باقاعدہ مفرور قرار دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں