پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں کی شامت آگئی، وزیراعظم سے سخت کاروائی کا حکم دیدیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول بحران میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی ہوگی، پٹرولیم بحران کی انکوائری رپورٹ پر کاروائی کیلئے3 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلا س ہوا ، جس میں طے کردہ ایجنڈے کے علاوہ سیاسی ، معاشی اور کورونا وباء کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔کابینہ اجلاس میں پٹرولیم بحران سے تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔

شفقت محمود، شیریں مزاری اور اسد عمر پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔ انکوائری رپورٹ پر ایکشن کیلئے کمیٹی سفارشات تیارکرے گی۔بعض وفاقی وزراء نے انکوائری رپورٹ پر شدید ردعمل دیا اور سوالات اٹھائے کہ پٹرول بحران پر متعلقہ وزارتوں کی کیا ذمہ داری تھی؟ مشیر پٹرولیم ندیم بابر کابینہ اجلاس کے دوران رپورٹ پر وضاحت پیش کرتے رہے۔وفاقی وزراء نے کہا کہ متعلقہ وزارت نے پٹرول بحران پرکیا کام کیا؟ بحران آنے کے بعد وزارتوں نے کیا ذمی داریاں نبھائیں؟ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ جو کمپنیاں ملوث تھیں ان کے لائسنس منسوخ کیوں نہیں کیے گئے؟ جب تیل سستا ہواتو ایکسپورٹ کیوں رکی رہی۔ علی زیدی نے بھی ذمہ داران کےخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران کان نے پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں کےخلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول بحران میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کو چیئرمین این ڈی ایم اے تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔کابینہ ڈویژن نے چیئرمین این ڈی ایم اے کی تعیناتی کیلئے تین نام بھیجے تھے۔ کابینہ نے عامر طفیل کو سوئی ناردرن کا ایم ڈی تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں