آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، مولانافضل الرحمن کیخلاف گھیرا تنگ

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، نیب نے مولانا کے مزید 5ساتھیوں کو طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا نے مولانا فضل الرحمان کے مزید پانچ ساتھیوں کو طلب کرلیا ہے۔ نیب انکوائری کے لیے 16دسمبر کو پشاور دفتر میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا گیا۔مولانا کے ساتھیوں میں عبدالرؤف، ابراراحمد، محمدجلال، دین محمد اور ابرارعلی شاہ شامل ہیں۔ ان افراد کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے ہے۔خیال رہے کہ نیب میں مولانافضل الرحمان کے خلاف زائداثاثے اور کرپشن کی انکوائری جاری ہے۔

اس سے قبل خبیرپختونخوا نیب مولانافضل الرحمان کے دو قریبی ساتھیوں گل اصغر اور نور اصغر کو بھی طلب کرچکا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں قومی احتساب بیورو نے آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اس حوالے سے مختلف امور پر تفتیشی ٹیم تحقیقات کررہی ہے۔دوسری طرف وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کی جائیدادوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے 2 گھر اور ایک پلاٹ ڈی آئی خان میں ہیں، ایک بنگلہ ایف8اسلام آباد اور ایک فلیٹ دبئی میں ہے ، پشاور،کراچی اورکوئٹہ میں فضل الرحمان کی دکانیں موجودہیں جب کہ مولانا کا ایک گھر، 5 ایکڑ زرعی زمین عبدالخیل ڈی آئی خان میں ہے ، ایک گھر، مدرسہ اور 5ایکڑ زمین شورکوٹ میں بھی ہے۔علی امین گنڈاپور کی جانب سے دی گئی دستاویزات کے مطابق حال ہی میں مولانا نے 3 ارب کی زمین چک شہزادمیں خریدی اورفروخت کی، فضل الرحمان کی47لاکھ روپےمالیت کی کمرشل اراضی بھی ہے، 15 لاکھ روپے مالیت کی کمرشل اراضی عبدالخیل ڈی آئی خان میں ہے جب کہ شورکوٹ میں25لاکھ مالیت کی کمرشل اراضی بھی فضل الرحمان کی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے فضل الرحمان کےفرنٹ مین کے نام پر بنی جائیدادوں کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں ، انہوں نے بتایا کہ فضل الرحمان کے فرنٹ مین گل وزیر اور اس کے بیٹوں کےنام پر3777کنال اراضی ہے، موسیٰ خان سابق ڈی ایف اوڈی آئی خان کے نام پر192کنال اراضی ہے، حاجی جلال خان وزیرکے نام پر714کنال اراضی ہے ، 2005 میں مولانا کے فرنٹ مین اشرف علی کو200 کنال ارضی حکومت نے الاٹ کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں