عام معافی کی درخواست !

ملک میں ایک طرف ملٹری کورٹ میں سویلین کے مقدمات کی سماعت زیر بحث ہے تو دوسری جانب شیخ رشید کا چلہ ہر زبان زد عام ہے ،ملٹری کورٹ پرتو عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آگیا ہے کہ عام شہریوں کا فوجی عدالت میں ٹرائل غیر قانونی ہے،جبکہ شیخ رشید کوئی تبلیغی چلہ نہیں ،مخصوص چلہ کاٹ کر آئے ہیںاور اس مخصوص چلہ میں بہت کچھ سیکھ کر آئے ہیں،اب پہلے تولیں گے، پھر بولیں گے اور وہ بڑے ناپ تول کر بول رہے ہیں کہ نوںمئی کے واقعات میں ملوث سب افراد کے لیے معافی کی درخواست کرنا چاہتے ہیںاوریہ عام معافی کی در خوست قبول کرواکر ہی دم لیں گے ۔
ہماری سیاسی تاریخ بڑی ہی عجیب وغریب ہے،یہاں پرجو بھی قانون سازی اپنے مفاد میں کی جاتی ہے ، وہی آگے چل کر ان کے اپنے ہی خلاف استعمال ہونے لگتی ہے، آرمی ایکٹ تر میمی بل میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے ،یہ ببل پہلے پی ٹی آئی دور حکومت میں سب پارٹیوں نے مل کر بڑی تیزی سے منظور کروایا ،بعدازاں پی ڈی ایم دور حکومت میں ایک بار پھر عجلت میں آرمی ایکٹ میں مزید ترمیم کردی گئی، اس ایکٹ کے تحت نوں مئی واقعات میں ملوث افراد کے خلاف جب مقدامات کی کاروائی شروع ہوئی تو اس کے خلاف آواز اُٹھائی جارہی ہے ۔
یہ اہل سیاست کے قول فعل کا تذاد ہے کہ یہ سب مل کر اپنے مفاد میں پہلے قانون سازیاں کرتے ہیں اور جب وہی قانون سازی کسی ایک کے گلے پڑتی ہے تو واویلا کرنے لگتے ہیں ، عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانے لگتے ہیں ،عدلیہ کی جانب سے بھی ایسے مقدمات کے فیصلوں میں دیر ی ہوجاتی ہے ،اس کیس کے حوالے سے بھی عدالت عظمیٰ کے سامنے بڑا سوال آیا ہے کہ جن مقدمات کے بارے میں ان کے سامنے درخواستیں زیر سماعت تھیں، ان کی ملٹری کورٹ میں سماعت کیونکر شروع کر دی گئی ، تاہم ایک مرتبہ پھر آخری لمحات میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آگیا کہ عام شہریوں کا فوجی عدالت میں ٹرائل غیر قانونی ہے، اس فیصلے نے پی ٹی آئی کی صفوں میں جہاں اطمینان کی لہر پیدا کی ہے، وہیں عدالت عظمیٰ کے ذمے داری بھی بڑھ گئی ہے۔
عدالت عظمی ٰکا کام صرف فیصلہ کرنا ہی نہیں ،اس پر عمل در آمد کر نا بھی ضروری ہے ، عام شہریوں کا فوجی عدالت میں ٹرائل غیر قانونی ہونے کے بعد اب ٹرائل کورٹ میں یہ مقدمات سامنے آئیں گے اور ان میں بہت سے جھول بھی سامنے آئیں گے، اگر عدالت عظمیٰ نے آئین اور قانون کی بالادستی کو ایک بار یقینی بنادیا تو اس سے اسمبلیوں میں پہنچنے والے نمائندوں کے لیے بھی راہ متعین ہوجائے گی کہ قانون سازی کے وقت قومی مفاد کو ہی سامنے رکھا کریں، ویسے تو یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ مقدمات فوجی عدالتوں میں نہ چلنے کا مطلب سب کا ہی بری ہوجانا ہے، اس دور میں بہت سے ایسے اقدامات بھی ہوئے ہیں کہ جن کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا، ان تمام پر قانون گرفت کرے گا تو بہت سے لوگوں کی سیاست ختم بھی ہوسکتی ہے۔
اس ملک میں کس کی سیاست چلتی ہے اور کس کی ختم ہوتی ہے ،اس بارے قبل از وقت کچھ بھی کہنا انتہائی مشکل ہے،یہاںپر ہوائوں کا رخ بدلتے دیر نہیں لگتی ، یہاں جوکچھ سامنے دکھائی دیتا ہے ، اس کے پس پردہ کچھ اور بھی ساتھ چل رہا ہوتا ہے ، ایک طرف عدالیہ فیصلے ہیں تو دوسری جانب مقدرہ کی من منشا ء ہے ، اس ملک میں ہو گا وہی کچھ جو کہ اس ملک کے رکھوالے چاہیں گے، اس کی نشاندہی شیخ رشید نے بھی اپنا چلہ کا ٹنے کے بعد دبے الفاظ میں کر دی ہے ، انہوں نے بتا دیا ہے کہ اس ملک میں بے لگام جمہوریت نہیں چلتی، یہاں کنٹرولڈ جمہوریت ہے، جو کہ فیصلے سے پہلے ہوا کارخ دیکھتی ہے، اس لیے ہی چاہتے ہیں کہ ایک بار عام معافی کا اعلان کر دیا جائے ،لیکن اُن کی عام معافی کی در خواست قبول ہوتی دکھائی نہیں دیے رہی ہے ،کیو نکہ کسی انسان میں اتنا ظرف ہے نہ ہی اتنا حوصلہ کہ اپنے مخالف کی پہاڑ جیسی غلطیوں کو معاف کردے،ہاں اللہ بڑا ہی غفور الرحیم ہے، وہ معاف بھی کرتا ہے اور رحم بھی فرماتا ہے، اگر شیخ رشید مقتدرہ کے بجائے اللہ کے حضور گڑگڑائیں گے اور اس سے عام معافی کی درخواست کریں گے تو انشااللہ ضرورقبول ہو جائے گی۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button