نمیرہ سلیم ۔۔۔ 6 اکتوبر تاریخ ساز دن

اکتوبر کی 6 تاریخ بروز جمعہ تمام پاکستانیوں خصوصا پاکستانی خواتین کے لئے تاریخ ساز دن ثابت ہوگا۔ اس دن پاکستان کی بیٹی نمیرہ سلیم خلا میں سفر شروع کرکے پاکستان کی پہلی خلاباز خاتون کا اعزاز حاصل کرنے جارہی ہیں۔ 1975 میں کراچی میں پیدا ہونے والی نمیرہ سلیم نے ہوفسٹرا یونیورسٹی نیویارک سے بین الاقوامی تجارت میں بیچلرز کیا اور کولمبیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس آئیں اور یہاں اقوام متحدہ کے کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت بننے والی بین الاقوامی اکنامکس اور بزنس مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں۔ 1997 میں نمیرہ یورپی ملک منتقل ہوگئیں۔ پاکستان کی پہلی خلا باز خاتون کا اعزاز حاصل کرنے سے پہلے بھی وہ کئی اعزاز اپنے نام کرچکی ہیں۔ سال 2008میں نمیرہ سلیم نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ یا کوہ ہمالیہ سے زیادہ بلندی سے زمین پر چھلانگ لگانے والی پہلے ایشیائی خاتون کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہیں۔
نمیرہ سلیم کا کہنا تھا کہ ماؤنٹ ایورسٹ جسے دنیا کی چھت یا تیسرا پول بھی کہا جاتا ہے، سر کرنا بہت سے لوگوں کی طرح ان کا بھی خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ تو پورا نہ کر پائیں لیکن جب یہ ماؤنٹ ایورسٹ سے بلندی پر جا کر سکائی ڈائیونگ کا منصوبہ سامنے آیا تو انہوں نے اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ نمیرہ سلیم نے 21 اپریل 2007 کو قطب شمالی میں پاکستان کا پرچم لہرایا، وہ پرچم انہیں 29 جنوری 2007 کو صدر جنرل پرویز مشرف نے دیا تھا۔ اسی طرح نمیرہ سلیم نے 10 جنوری 2008 کو قطب جنوبی پر بھی قدم رکھا اور وہاں پہلی مرتبہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا، یہ پرچم انہیں 24 دسمبر 2007 کو پاکستان کے نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو نے دیا تھا۔ یورپ منتقل ہو جانے کے باوجود وہ پاکستان کو کبھی نہ بھلا پائیں۔ زندگی میں حاصل ہونے والی ہر کامیابی پر پاکستانی پرچم کو ہمیشہ سربلند رکھنے کی کوشش کی۔ نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے سوشل میڈیا پر نمیرہ سلیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ "گڈ لک نمیرہ سلیم”۔
انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ میں آپ کی کامیابی چاہتا ہوں جب آپ 06 اکتوبر کو Galactic # 04 میں خلا کا سفر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن کر تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہوں گی ۔متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کرخواتین پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر رہی ہیں۔ باوجود اسکے کہ یہ مہم جوئی نمیرہ سلیم ذاتی حیثیت میں کر رہی ہیں یعنی حکومت پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی مالی معاونت شامل حال نہیں ہے ۔ مگر پھر بھی نمیرہ سلیم خلا میں پاکستانی پرچم بلند کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ اس پرمسرت موقع پر بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں سوچنے اور فکرمند ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہم پاکستانی اپنے وطن میں رہ کر یہ سب کچھ کیوں نہیں کر پاتے ؟ ریاست پاکستان میں سائنس کی تعلیم کو بظاہر صرف میڈ یکل ڈاکٹر اور انجینئرنگ تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔
آخر ہم کیوں روایتی تعلیم اور کیرئیر کے پیچھے ہی دوڑتے ہیں۔ ہوش سنبھالتے سے پہلے ہی والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے خواب دیکھانا شروع کردیتے ہیں۔ مطلب ڈاکٹر یا انجینئر نہ بنے تو دنیا میں آنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ ایک ساتھ انگریز سے آزادی حاصل کرنے والے ممالک پاکستان اور بھارت کی ترجیحات میں واضح فرق دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارت اپنی خلائی مشین چاند تک پہنچا چکا اور ہم پاکستانی صرف اسی بات پر خوشی کے شادیانے بجائیں گے کہ ہماری بیٹی نمیرہ سلیم اپنے ذاتی خرچے پر خلاء کا سفر کرنے جارہی ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی بات کی جائے تو بھارتی سائنسدان پوری دنیا میں چھائے ہوئے نظرآئیں گے۔ کھیلوں کی بات کی جائے تو پاکستانیوں اور حکومت پاکستان کے نزدیک صرف کرکٹ ہی دنیا کا واحد کھیل ہے جو کھیلا جاسکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑیں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے جمہوریت، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل ، ثقافت اور تجارت کے میدان میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روایتی تعلیم کیساتھ دورجدید سے ہم آہنگ سائنس وٹیکنالوجی خصوصا سپیس سائنس کے فروغ کے لئے ریاست پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں علامہ اقبال کے شعر کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرتی دیکھائی دیں:
محبّت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
بہرحال پاکستان کی تمام تر کمزوریوں اور محرومیوں کے باوجود اس وقت پوری قوم کی توجہ کا مرکز پاکستان کی بیٹی نمیرہ سلیم ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہم نمیرہ سلیم کی اس مہم جوئی کے لئےدعا گو ہیں۔ تمام پاکستانی اپنی بیٹی کی کامیابی کے لئے نہ صرف پُرامید ہیں بلکہ فخر محسوس کررہے ہیں۔ اللہ کریم نمیرہ سلیم کو کامیابی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button