خاکی اور ہاکی

اسلامیت ،انسانیت اورپاکستانیت کیلئے شہادت ایک بیش قیمت سعادت اوراپنے بوند بوند خون کی سخاوت ہے۔حسینیت ؑ کے علمبردار چودہ صدیوں سے یذیدیت کوللکارتے اورپچھاڑتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں۔راہ حق میں” وفائوں” اورمعبودکی "عطائوں” کاحق اداکرنا”خطائوں” کومٹا دیتا ہے۔ شہادت وہ اعلیٰ ترین مقام ہے جو جذبوں میں شدت اورشجاعت کے بغیر نہیں ملتا ، تاہم ہر مقتول کو شہید قرارنہیںدیاجاسکتا۔کون شہید ہے ،یہ صرف علماء اسلامی تعلیمات کی روشنی میں طے کرسکتے ہیں ۔بزدل ہر روزمرتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی شہید نہیں ہوتا۔شہادت کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی ،مورخ روشنائی لیکن شہید اپنے خون سے تاریخ رقم کرتے ہیں۔
شہادت ایک نعمت ہے اورشہید زندہ وتابندہ ہوتے ہیں۔شہید ہمارے شعور سے ماورا ہیں،قدرت غازی علم دین شہید ،ملک ممتازقادری شہید،پاک فوج کے میجر طفیل محمد شہید،میجر عزیز بھٹی شہید،میجر شبیر شریف شہید،راشد منہاس شہید،کیپٹن راجا محمدسرور شہید،سوارمحمدحسین شہید،محافظ وطن محمدمحافظ شہید،کیپٹن کرنل شیر خان شہید اورپنجاب پولیس کے ا یس ایس پی زاہدمحمودگوندل شہیدسے قابل رشک کرداروں کو قبروں،قصوں اورکتابوں میں زندہ ر کھتی ہے۔ شہادت بھی ہمارے شہداء پرنازاں ہے،لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ، بریگیڈئیر امجدحنیف ، بریگیڈئیرمحمدخالد، میجر سعیداحمد،میجر محمدطلحہٰ منان اورنائیک مدثر فیاض سے شہید ہمارے نصاب کاجلی عنوان ہیں،ان کاکردار پوری قو م کیلئے سرمایہ افتخار بن جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں ہم اپنے محبوب شہداء کے ممنون اور مقروض ہیں ،ہماری پروقار زندگی اور پرسکون نیند یقینی بنا نے کیلئے آج وہ ابدی نیند سورہے ہیں۔الحمدللہ مجموعی طورپر ہماری سکیورٹی فورسز کی وردی ٹرسٹ وردی ہے،پولیس بارے اپنے مخصوص تحفظات کے باوجود شہری آج بھی انصاف کیلئے تھانوں کارخ کرتے ہیں۔مٹھی بھرشہریوں کے طرف سے سکیورٹی فورسز کی وردی پر لگائے جانیوالے داغ ہمارے جانبازوں کواپنے مقدس لہو سے دھوناپڑتے ہیں۔خاکی کے دم سے پاک سرزمین میں ہر سوسبزہ اور ہریالی ہے،خاکی پوش اپنے لہو سے پاک سرزمین کی خاک کوبھی مقدس بنادیتے ہیں۔ہمارے خاکی دشمن کے مذموم ارادوں کوخاک میں ملاتے ہوئے پاک سرزمین کی حفاظت یقینی بناتے ہیں ۔ ہمارے جانبازوں کے سرخ لہو سے سیراب ہونیوالی زمین سونا اگلتی ہے۔ مادروطن کے خاکی پوش محافظ ہیرواورہیرے فرض کی بجا آوری کے دوران سپرد خاک ہوجاتے ہیں لیکن قومی حمیت اورملکی سا لمیت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔پاک سرزمین کے ناپاک دشمن خاکی کے مقابل آتے ہیں تو خس و خاشاک ہوجاتے ہیں،ان کانام ونشان مٹ جاتا ہے۔
میدانوں میں” ہاکی” کھیلتے ہوئے "گول” کرنیوالے پلیئرز بھی یقینا ہمارے ہیرو ہیں لیکن پا کستان کی آن بان اورشہریوں کی جان کاپہرہ دیتے ہوئے سردھڑ کی بازی لگاتے ہوئے دشمن کو "گولی” سے چھلنی اورجا م شہادت نوش کرنیوالے "خاکی” بیشک ہاکی بردار کے مقابلے میںہموطنوں کوزیادہ عزیز ہیں۔جام اورجام شہادت نوش کرنیوالے یقینا برابر نہیں ہوسکتے۔پاک فوج کے شہیدوں کی فہرست میں شامل کئی روشن ستارے آج بھی جگمگا رہے ہیں ۔نوجوان راشد منہاس شہید کی روشن آنکھیں اورپھول چہرہ کون بھول سکتا ہے۔کون کہتا ہے پاک فوج کا بجٹ زیادہ ہے ، راقم کا دعویٰ ہے ترازو میں ایک طرف دنیا جہاں کے زر و جواہر رکھ دیں اور دوسری طرف پاک فوج ، رینجرز ، پولیس، جیل پولیس،ریلوے پولیس اور ایف سی کے کسی شہید کے خون کا ایک قطرہ رکھ دیں تو قطرہ یقینا وزن میں بھاری ہوگا۔
ہمارے پرجوش جانبازوں کی رگ رگ میں دوڑتے خون کے” قطرے” ہمیں طرح طرح کے یقینی "خطرے” سے بچاتے ہیں۔ کچھ گمراہ عناصر کا کہنا ہے پاک فوج کے اعلیٰ حکام قربانیاں نہیں دیتے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کوئٹہ کے نڈر کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ، بریگیڈئیر امجدحنیف ، بریگیڈئیرمحمدخالد نے یہ تعصب کاداغ اپنے خون سے دھو دیا اور اس منفی تاثر کوزائل کردیاہے ۔ میجر سعیداحمد،میجر محمدطلحہٰ منان اورنائیک مدثر فیاض سے سرفروش کی شہادت کوفراموش نہیں کیا جاسکتا۔ لیفٹیننٹ جنرل” سرفراز” علی نے پاکستان اورافواج پاکستان کو”سرفراز” کردیا۔مادروطن کے فرزندوں نے انسانیت اورپاکستانیت کیلئے جام شہادت نوش کیا، وہ ہمارا سرمایہ افتخار ہیں ۔ ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے پرپاکستانیوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست دعا دراز کئے لیکن ایک حادثہ کے نتیجہ میں ہمارے نڈر محافظ حق رحمت سے جاملے ۔مادروطن کی حفاظت اورہموطنوں کی انتھک خدمت کرتے ہوئے شہادت کاجام پینا ایک بیش قیمت اعزاز ہے ۔ پاک فوج شہیدوں اورغازیوں کی وارث اورپاکستانیوں کاسرمایہ افتخار ہے ، پاکستانیوں کے دل اپنے فوجی جوانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔اہل پاکستان کاافواج پاکستان سے والہانہ عشق قابل رشک ہے ۔ افواج پاکستان سے بھرپور اورشدیدعقیدت کے بغیر پاکستان سے محبت کادعویٰ نہیں کیاجاسکتا۔
سوشل میڈیا کے شتر بے مہاروں کوپاک فوج کے جانبازوں کی” معرکہ آرائیوں” کے بارے میںـ "قیاس آرائیوں” کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ریاستی اداروں کے ہوتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثہ میں مخصوص اورمایوس شہریوں کا نامعلوم سازش کے تانے بانے تلاش کرنامجرمانہ اقدام ہے،انہیںاس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔افسوس تعلیم نے شہبازگل کاکچھ نہیں بگاڑا، اس قسم کے عاقبت نااندیش عناصر پاکستان اورکپتان کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھارہے ہیں۔کاش عمران خان نے اپنے معتمد عثمان بزدار والی بدترین غلطی سے کچھ سیکھا اوراپناطرز سیاست تبدیل کیا ہوتا۔اگربدزبان شہبازگل پی ٹی آئی اورکپتان کاترجمان بنارہا توسنجیدہ طبقات ان سے اظہار بیزاری کردیں گے ۔افواج پاکستان پرحملے ریاست پاکستان پرکاری ضرب لگانے کے مترادف ہیں۔جوگمراہ لوگ افواج پاکستان کیخلاف مودی کی زبان بول رہے ہیں وہ بھارت کیوں نہیں چلے جاتے۔افواج پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی درحقیقت بانیان پاکستان اورشہدائے پاکستان کی قربانیوں سے انکار ہے ۔
پاک فوج ،رینجرز ،پولیس،ایف سی،ریلوے پولیس اورجیل پولیس سمیت ہماری سکیورٹی فورسز شہیدوں کی وارث ہیں۔امسال بھی چار اگست کوملک بھر میں پولیس کے شہداء کادن بھرپور عقیدت کے ساتھ منایا اورشہیدوں کی بلندی درجات کیلئے دعائیہ اجتماعات کااہتمام گیا۔لاہور کے مستعد سی سی پی او غلام محمودڈوگر ،پروفیشنل ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمدکوثر اورعجلت بلکہ مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میںتبدیل کئے جانیوالے فرض شناس ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کامران عادل نے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں شہدائے پولیس کی یادیں تازہ کرتے ہوئے وہاں مخصوص یادگار پر عقیدتوں کے پھول نچھاورکئے ۔سنجیدہ و فہمیدہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی،راجا بشارت،آئی جی پنجاب فیصل شاہکاراور منفرد اسلوب کے سینئرکالم نگارڈاکٹر شوکت ورک بھی اس پروقارتقریب میں شریک تھے، چوہدری پرویزالٰہی نے تقریب میں ڈاکٹر شوکت ورک کی عافیت دریافت اور ان کی تحریروں کوسراہا۔اس تقریب میں میاں اسلم اقبال کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کی طرف سے شہدائے پولیس کی بیوائوں اور ان کے یتیم بچوںکیلئے مزید مراعات کااعلان خوش آئند ہے۔پرویزالٰہی کی ٹیم میں کام کرنیوالے اعزاز اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔مجھے لگالاہور پولیس کیلئے غلام محمودڈوگر ،افضال احمدکوثر اورکامران عادل سے فرض شناس آفیسرزپنجاب کے مردم شناس وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحسن انتخاب ہیں جبکہ میں اس حسن انتخاب کو تھانہ کلچر کی تبدیلی کے تناظر میں نویدانقلاب سمجھ رہا تھا لیکن کامران عادل کی تبدیلی سے سائلین اداس اورمایوس ہوئے ہیں ۔
یوم عاشورکے دوران بااحسن انداز سے امن وامان برقرار رکھنااوراتحادویکجہتی کو فروغ دینایقیناہارڈ ورک اور ٹیم ورک کانتیجہ ہے۔ اس کامیابی وکامرانی اورنیک نامی پر پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویزالٰہی ،باصلاحیت صوبائی وزیرمیاں اسلم اقبال ،جہاندیدہ غلام محمودڈوگر ،انتھک افضال احمدکوثر اور باریک بین کامران عادل دادوتحسین کے مستحق ہیں،تاہم مثالی کارکردگی ، پیشہ ورانہ مہارت اور کمٹمنٹ کے باوجودکامران عادل کوہٹاناایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔یادرکھیں ہمارے "کارواں” میں شریک ہر وہ شخص” کامران” ہوتا ہے جو”عادل "ہو۔کامران عادل نے بحیثیت ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور اپنی دانائی اور سچائی تک رسائی کے بل پر جس طرح "عدل "کوفروغ دیا وہ قابل رشک ہے۔محض چند ماہ بعداورکسی جوازکے بغیران کاٹرانسفر ناقابل فہم ہے ،افسوس ہمارے زیادہ تر حکمرانوں اورسیاستدانوں کامائنڈسیٹ معاشرے اورمحکموں کواپ سیٹ کردیتا ہے ۔اپنی انا کے اسیر حکمران کامران عادل سے باصلاحیت ،باوفا اورباصفا آفیسرز کوانتظامی نہیں انتقامی بنیادوں پرٹرانسفر کردیتے ہیں۔
جوشخص بیک وقت” کامران”،”عادل” اورعاقل ہواسے ڈیلیور کرنے کے باوجود ہٹانا یقینا متنازعہ اقدام ہے۔انوسٹی گیشن لاہور کیلئے معلم ،منتظم ، قانون دان اورگیان دان کامران عادل کادم غنیمت تھا، ان کی ٹرانسفر سے لاہور پولیس کا انوسٹی گیشن ونگ یتیم ہوگیا ۔غلام محمودڈوگر ، افضال احمدکوثر اور کامران عادل کی صورت میں لاہور کیلئے پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ایک ٹیم بن گئی تھی لیکن کامران عادل کے سی پی او جانے سے لاہور پولیس کوشدیددھچکا لگا ہے ۔چوہدری پرویزالٰہی، میاں اسلم اقبال ،غلام محمودڈوگر ، افضال احمدکوثر ، کامران عادل اورڈی ایس پی "مستحسن شاہ” نے جس بردباری کے ساتھ مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے کلیدی کرداراداکیاوہ” مستحسن "ہے۔میاں اسلم اقبال اپنی سیاسی جماعت پی ٹی آئی اورپنجاب حکومت کاروشن چہرہ ہیں۔ میاں اسلم کے اوصاف ، اخلاص اور اخلاق نے ان کا”اقبال” بلند کردیاہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button