میٹھے مشروبات: ایک میٹھا زہر، اس کا استعمال کم سے کم کریں ۔۔۔ تحریر: ثناء اللہ گھمن

ایڈڈ شوگر جدید خوراک کا واحد بدترین جزو ہے اور یہ سب کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے،اس میں کوئی غذائی اجزاء نہیں ہوتے،جو آپ کی مجموعی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ آئیے ان وجوہات کو سمجھتے ہیں جو چینی کو میٹھا زہر بناتی ہیں۔ شوگر قدرتی طور پر ہر قسم کے کھانے میں پائی جاتی ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس جیسے سبزیاں، پھل، اناج اور دودھ شامل ہیں۔ قدرتی چینی کا استعمال صحت کے لیے ٹھیک ہے،کیوں کہ ان غذاؤں میں دیگر غذائی اجزا بھی ہوتے ہیں جیسے فائبر کی زیادہ مقدار، ضروری معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس، کیلشیم اور پروٹین۔ یہ غذائیں آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں اور جسم کے لیے مسلسل توانائی فراہم کرتی ہیں اور مجموعی صحت کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

دوسری طرف ڈبے میں بند انرجی ڈرنکس جیسے کھانے میں شامل چینی ہماری بہت سی غذاوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور موٹاپا، ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماریاں، ہائی بولڈ پریشر اور کینسرجیسے امراض کی ایک بڑی وجہ بنتی ہیں۔ چینی کا زیادہ استعمال، خاص طور پر میٹھے مشروبات میں، بھی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ ٹھوس کھانوں کی کیلوریز کے مقابلے ایس ایس بی میں مائع کیلوریز کم تسلی بخش ہوتی ہیں اور کھانا کھاتے وقت آپ کو پیٹ بھرا محسوس نہیں کریں گی۔ 15 سال کے مطالعے کے دوران، جن لوگوں نے اضافی چینی سے اپنی کیلوریز کا 17٪ سے 20٪ حاصل کیا ان میں دل کی بیماریوں سے مرنے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 38٪ زیادہ تھا جنہوں نے اضافی چینی کے طور پر اپنی کیلوریز کا 8٪ استعمال کیا۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارش کے مطابق، خواتین کے لیے شوگر کا یومیہ الاؤنس 100 کیلوریز فی دن (6 چائے کے چمچ) اور مردوں کے لیے 150 کیلوریز یومیہ (9 چائے کے چمچ) ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، ایک چھوٹی بوتل میٹھے مشروبات کی پینے سے چینی کی وہ مقدار حاصل ہوتی ہے،جو ایک شخص کو 1 دن میں استعمال کرنا چاہیے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن میں دو یا دو سے زیادہ شوگر ڈرنکس دل کی ناکامی کا خطرہ 23 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں۔ دو دہائیوں تک 40,000 مردوں پر کی جانے والی ایک اور تحقیق میں پتا چلا کہ جو لوگ اوسطاً روزانہ ایک کین شوگری ڈرنکس پیتے ہیں ان میں دل کا دورہ پڑنے یا ہارٹ اٹیک سے مرنے کا خطرہ 20 فیصد زیادہ ہوتا ہے

اور ان مردوں کے مقابلے میں جو شاذ و نادر ہی شوگر ڈرنکس پیتے ہیں۔ جرنل ”جنرل ڈینٹسٹری” میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کولا پینے کے پہلے تین منٹوں میں پھلوں کے رس سے 10 گنا زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 4 کین شوگر ی ڈرنکس پینے سے دانتوں کے کٹاؤ کا خطرہ 252 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کی صورتحال باقی دنیا سے بھی بدتر ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2011 سے 2018 تک پانچ سال سے کم عمر بچوں میں زیادہ وزن کا پھیلاؤ تقریباً دوگنا ہو گیا ہے۔ اسٹیپ سروے (2014 – 2015) نے

تصدیق کی ہے کہ 41.3 % موٹے یا زیادہ وزن کا شکار ہیں۔ پاکستان میں ہر چوتھے بالغ کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہے۔ انٹرنیشنل ڈائیبیٹک فیڈریشن کی رپورٹ 2021 کے مطابق، پاکستان دنیا بھر میں ذیابیطس کے مرض میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں 33 ملین لوگ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر سال تقریباً 400,000 اموات ذیابیطس یا اس سے متعلقہ پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، یعنی روزانہ تقریباً 1100 اموات۔ انٹرنیشنل ڈائیبیٹک فیڈریشن کا کہنا ہے کہ 2021 میں پاکستان میں ذیابیطس کے علاج کے لیے صحت کے اخراجات کا تخمینہ 2640 ملین امریکی ڈالر تھا۔ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال

ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کے 30% زیادہ خطرے سے وابستہ ہے۔ یہ پاکستان میں صحت عامہ کی ایمرجنسی ہے جس میں خطرناک حد تک زیادہ تعداد میں لوگ ذیابیطس کے شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہمیں اس میٹھے زہر کے استعمال کو کم کرنے کے لیے گہرا اقدام کرنے کے لیے بیدار کریں گے۔ ایس ایس بی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے شواہدبتاتے ہیں کہ شوگر ی ڈرنکس پر ٹیکس بڑھانا چاہیے۔ ہمارے پاس دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک کی مثالیں ہیں جنہوں نے ٹیکسوں میں اضافہ کرکے میٹھے مشروبات کی کھپت کو کم کیا ہے۔ سعودی عرب میں انرجی ڈرنکس پر 100 فیصد ٹیکس اور سوڈاس پر

50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد شکر والے مشروبات کی کھپت میں کمی کے شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انرجی ڈرنکس کی کھپت پچھلے سال کے مقابلے میں 58 فیصد اور سوڈاس کی کھپت 41 فیصد رہ گئی۔ حکومت کو مشروبات کی صنعت کے مفادات کے تحفظ کے بجائے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے شوگری ڈرنکس پر ٹیکس بڑھانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف صحت عامہ میں بہتری آئے گی بلکہ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا اور یہ حکومت کے لیے جیت کی صورت حال ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں