محکمہ تعلیم تباھی کے دھانے پر ۔۔۔ تحریر: محمد معین خان

ہرر سرکاری محکمے کو فعال اور مثبت انداز میں آگے بڑھانے اسکو رواں رکھنےاور حکومتوں کو نیک نام یا بدنام کرنے کے عمل میں کلریکل اسٹاف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ھے۔اس لئے انکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔لیکن جب یہ "بابو” لوگ اپنے سرکاری امور کی انجام دہی کے بجائے سیاست کرنے لگ جائیں تو نہ صرف محکمے تباہ ھوتے ہیں بلکہ حکومت کے چہرے پر بھی بدنما داغ لگ جاتے ہیں۔ایسا ہی کچھ محکمہ تعلیم اسکولز کراچی کے ڈائریکٹوریٹ میں ھو رھا ہے جہاں پروموشن کے نام پر فائلیں جمع کرنے کے بہانے خواتین اسٹاف کو تنگ کرنے کے نت نئے حربے اختیار کئے جاتے ہیں جبکہ افسران اپنی بے عزتی کے ڈر سے ان کلرکوں کے نام نہاد لیڈروں سے جو کہ خود سنگل پیج پروموشن یافتہ اور خود ساختہ عہدیدار بنے بیٹھے ہیں۔
کسی محکمہ تعلیم کے افسر کی مجال نہیں ھے کہ وہ ان نام نہاد لیڈروں سے روزانہ کی بنیاد پر معلومات لیں کہ کتنے سائل ڈائریکٹوریٹ کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں اور انکے روزمرہ کے کام کیوں نہیں ھو رہے۔ کیا اس ڈیجیٹل دور میں نگرانی اور شکایات کا ازالہ کوئی مشکل امر ھے؟کیا وجہ ہے سپریم کورٹ کے احکمات کے مطابق سنگل پیج اور آؤٹ آف ٹرن ترقی پانے والے ملازمین کے خلاف کیوں کاروائی نہیں ھوئی؟ کہیں یہ "بابو” تو رکاوٹ نہیں؟ کہیں مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں؟ کہیں یہ محکمہ کے لیئے ناسور تو نہیں بن رہے؟ کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی ھوگی ؟ غلام اکبر لغاری صاحب جو اس ادارے کے انتظامی سربراہ ہیں اور بہت اچھے انتظامی افسر بھی ہیں اور جب سے انھوں نے چارج سنبھالا ھے کئ جرآت مندانہ اور قابل تعریف اقدامات کئے ہیں وہ بھی شاید یا صحیح صورتحال سے واقف نہیں ہیں یا پھر ڈائریکٹر صاحبان اپنی کارکردگی اچھی پیش کرنے کیلئے اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کرتےاور ان نام نہاد مرکزی رہنماؤں جواد کاظمی، نہال عثمانی ،سعید قریشی جیسے کلریکل اسٹاف سے بلیک میل ھوتے ہیں۔آخر کیا وجہ ھے کہ یہ لیڈران سینیارٹی وغیرہ کام متعلقہ برانچ سے نہیں کرواتے، ترقیوں کے سارے کام اپنے نازک اور ناتواں کاندھوں پر اٹھا رکھا ھے؟ کچھ تو ھے جس کی پردہ داری ھے کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں گے تو شکایت ھوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں