سول بالادستی کے دعویدار ہی بدترین آمرانہ رویوں کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔ تحریر: علی شیر

‏‎آئین پاکستان سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے ‎#آزادی_مارچ میں شرکت کے لئیے وزیراعلی گلگت بلتستان‎ محمد خالد خورشید اور ان کے کارکنان پر شیلنگ آئین سے منحرف ہونے کے مترادف ہے سونے پہ سہاگا کہ اوپر سے حکومت وقت 144 کی آڑ میں ایک صوبے کے وزیراعلی ‏اور ان کی سیکورٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر درج کرواتی ہے سول بالادستی کی دعویدار حکومت کا یہ اقدام درحقیقت بدترین آمریت کا مظاہرہ ہے یہ عمل صوبوں کے مابین دوریاں، نفرتیں اور سیاسی انارکی کا باعث بن سکتا ہے ‘سوچئیے ایک لمحہ کواگر وزیراعلی گلگت بلتستان اپنے عمل داری صوبے میں وزیراعظم پاکستان، وزیر داخلہ اور دیگر اہم حکومتی شخصیات کیخلاف ایف آئی آر درج کرواتے ہیں تو کیا وفاق اور گلگت بلتستان کے مابین شدید نوعیت کے سیاسی، حکومتی بحران جنم نہیں لے گا!!!
سیاسی جماعتوں کے قائدین عدلیہ اور ملکی سالمیت کے ضامن اداروں کو اس طرف توجہ دینا ہوگی یہ طرز حکومت، سیاست ملک کے لئیے بہتر نہیں اور اگر لانگ مارچ، دھرنوں کی سیاست ملک کے حق میں نہیں تو پھر پارلیمان کا سہارا لیتے ہوئے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اس حق کو ہی ختم کیا جائے۔سیاسی انا کو اس قدر مٹ بڑھائیں کہ ملکی سالمیت پر کوئی آنچ آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں