لفافہ صحافی اور مزدور ڈے تلخ حقائق ۔۔۔ تحریر: ابرار حسین استوری

یکم مئی مزدور ڈے کی رپورٹنگ کرنے اسلام آباد پشاور موڈ پناہ گاہ مزدوروں کے پاس پہنچا تو گفتگو کرتے کرتے ایک مزدور بولا صاحب مزدوری ہی نہیں مہنگائی عروج پر ہے غریب کو یہاں جینے کا کوئی حق نہیں حکمران اسمبلی اور اے سی کمروں میں بیٹھ کر بس بیانات دے کر سمجھتے ہیں مزدوروں کا عالمی دن منا لیا اور مزدوروں کے گھروں کو روشن کردیا مگر انہیں کیا پتہ مزدور روٹی کیلئے پل پل مر رہا ہے اور یہ حکمران ان کی مردہ لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں۔

مزدور بھائی بات آگے بڑھاتے ہوئے میری طرف اشارہ کرتے بولا آپ تو کم از کم دو لاکھ تنخواہ لیتے ہونگے تو آپ کو کس بات کی فکر ہمیں تو دیہاڑی بھی ٹھیک سے نہیں ملتی دو وقت کی روٹی کیلئے ترستے ہیں کپڑے کہاں سے خریدتے اور ہم غریبوں کی کیا زندگی تو عید کیسے منائیں گے. یقیناً مجھ دکھ ضرور ہوا مگر کرتے تو کیا کرتے ہم بھی قلم کے مزدور ہیں اپنے حالات بھی کچھ مشترکہ تھے. پھر اپنے جذبات کو سنبھال کر دل ہی دل میں کہنے لگا کاش کوئی اس مزدور بھائی کو سمجھا دیتا ہم جیسے قلم کے اصل مزدور جو لوگوں کی آواز پوری دنیا تک پہنچاتے ہیں اپنی بات تو گلے پر ہی دفن ہوجاتی ہے حقیقی صحافی جو دوسروں کی آواز بلند کرتا ہے وہ ہمیشہ مزدور سے بھی کم اجرت لیتا ہے اور بس چہرے پر دکھاوے کی ہنسی اور مسکراہٹ اپنی سفید پوشی قائم رکھنے کیلئے دکھا دیتا ہے تو لوگوں کو لگتا ہے یہ بھی لاکھوں تنخواہ اور ساتھ ساتھ کھبی کھبار کسی سے لفافہ بھی لیتا ہوگا. بدقسمتی سے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے نام نہاد میڈیا مالکان، اینکرز، صحافت کے ایکٹرز کی عیش عشرت دیکھ کر لگتا ہے سارے صحافی لاکھوں کما رہے ہیں اور ان کی موجیں ہیں مگر انہیں کیا پتہ سچ اور حق لکھنے والا قلم کے اصل مزدوروں کی دیہاڑی ان کی روزانہ اجرات سے کم ہوتی ہے اور اپنی سفید پوشی چھپانے کے چکر میں خودکشیوں پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں