ریاست مدینہ۔۔۔ تحریر: شازیہ تسلیم کاسی

مختاراں مائی سے لیکر زینب اور بزرگ خواتین سے لیکر 6 ماہ کی بچی تک ہم بے حس اور خاموش تماشائی بنےہوئے ان درندہ صفت لوگوں کو کھلی چھوٹ دینے کا نتیجہ کل ایک ماں اسکے بچوں کے سامنے پا مال ہو گی۔ قانون نافذ کرنے والے ایک دوسرے کی حدود و قیود کا رونا روتے رہے۔ بنت حوا کی عزت پا مال ہوتی رہی ۔ اور سی سی پی اؤ خاتون کو مورد الزام ٹھراتےہوئے فرماتے رہے کہ اتنی رات گئے وہ خاتون باہر ہی کیوں نکلی۔ یہ بیان ایک باپ یا بھائی نہیں بلکہ ایک بیغیرت ہی دے سکتا ہے ۔ ایسے جانوروں سے قانون کی ركهوالی نہیں کی جاتی مگر بکواس ضرور کی جا سکتی ہے ۔

حفاظت دینے میں ناکام حکومت اور بےبس نظام ایک اور خوفناک کی صورت حال کو جنم دے گیا۔ ان درندہ صفت لوگوں کو اگر سر عام چوک پر لٹکایا جاتا جب "زینب بل” پاس کیا گیا تھا تو آج یوں ایک ماں سر عام پامال نہ ہوتی ۔ مگر ہم غلامی کی زنجیروں اور اپنی کرسیوں کی حفاظت میں جکڑے اپنی زهنی غلامی کے آگے بےبس ہیں ۔ یہ ماں فرانس کی شہریت رکھتی تھی اور اپنے بچوں کو وہاں کے آزاد معاشرے سے بچا کر یہاں لائی تھی کہ ان کی تعلیم و تربیت اسلامی اصولوں پر کر سکے اور سی سی پی اؤ لاہور فرماتے ہیں ۔ یہ خاتون پاکستان کو بھی فرانس سمجھ کر رات گئے گھر سے نکل پڑیں وہاں تو قوانین کی پابندی ہے ۔ یعنی محافظ اس ملک کا ناکام ، ریاست ناکام ، حکومت ناکام ۔ اتنے نکمے اور بے حس ہو تو کیوں نوکریوں سے چپکے کر بیٹھے ہو ۔ جناب فواد چودھری وزیر اور محترمہ شیریں مزاری صاحبہ کے بیانات کے بعد انکے قلمدان ان سے چھین لینے چاہئے مستعفی تو عمران خان کو بھی ہو جانا چاہئے ۔ جو اس ملک کے شہری کو تحفظ دینے میں پوری حکومتی مشینری ناکام ہو رہی ہے ۔ اس سی سی پی او اور وزیر اعلی پنجاب کے خلاف نیب ریفرنس بنانے میں تاخیر کیوں ۔ کیوں اس موٹر وے کا افتتاح بغیر پولیس یا سیکورٹی فورسز کے بغیر کر دیا گیا۔ ہم لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں ضیاء الحق سے مگر 10 سال کے بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے 24 گھنٹے میں گرفتار ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے 10 سال تک پھر ایسا واقعہ رونما نہ ھوا ۔ انصاف میں تاخیر انصاف کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ اگر واقعہ ساہیوال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہوتی عمران خان نے جن کو انجکشن لگانے کے بعد حوریں نظر آتی ہوں۔ جو شخص ایک شادی شدہ عورت کو طلاق دلوا کر نکاح کر لیتا ہو ایسا شخص جو دھرنے کے دنوں میں سر عام پرائی عورتوں کو نچواتا رہا ہو ۔

جس لیڈر کی اپنی پارٹی کی خواتین اور اسکی پہلی بیوی اسکے کردار پر انگلی اٹھا ے مگر وہ شخص اپنی پوزیشن واضح کرنے میں ناکام ہو ۔ ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے اس قوم کی مائیں ۔ بہنیں اور بیٹیاں یوں ہی برباد ہوتی رہیں گی ۔ میرا سوال اس موم بتی آنٹی ٹولے سے بھی ہے جس وقت زینب بل میں پھانسی کی سزا شامل کی جا رہی تھی اس کے حق میں کیوں نہیں بولیں۔ پیپلز پارٹی نے سزاے موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیلی کی حمایت کی تھی۔ آج بھی فنڈڈ ٹولہ رپیسٹ کے خلاف سر عام  کیوں نہیں نکلیں یہ خواتین۔ میرا جسم میری مرضی کے نام پر بے حیائی اور ان درندوں کو کھلی چھوٹ دینا انکے خود کردار پہ ایک دھبہ ہے ۔ میرا سوال جے یو آئی کے سینٹرسپریم کورٹ کے سابقہ صدر سے بھی ہے کہ جنہوں نے میڈیا پہ بیٹھ کے سرعام  پھانسی کی مخالفت کی تھی ۔ تو جناب آپ نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے کیا قانون سازی کی اب تک ۔ آپ کی بیٹی اور بیوی کے ساتھ یہ نہیں ہوا کیوں کہ انکے ساتھ گارڈ ز ہوتے ہیں ۔ مگر جناب % ٩٥ ملک کی عوام کو یہ تحفظ حاصل نہیں ۔ کیوں کہ میرے سپاہی نے فرما دیا کہ عورت کو اتنی رات کو باہر نہیں نکلنا چاہئے ۔ تو جناب ایک ٹائم ٹیبل نشر کر دیں کہ ان اوقات میں مرد باہر نکلیں گے ۔ ان اوقات میں عورتیں اور رات بارہ بجے کے بعد رپیسٹ ۔ ڈاکو ۔ غنڈہ گردی درندوں کا ٹائم ہے ۔ لعنت ہو ایسے پولیس پر ایسی حکومت پر ایسے سیاست دانوں پر اور ایسی مذہبی جماعتوں پر ۔ اور آخر میں اپنی عوام کے لئے
جہاں حاکم ہو بس اللہ
جہاں قانون بس قرآں
اسی دورِ حکومت میں
اطاعت فرض ہوتی ہے
وگرنہ کچھ بھی ہو جائے
بغاوت فرض ہوتی ہے

سنو اندھو سنو بہرو
اپاہج، مُردہ دل لوگو
سنو حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.