ورچوئل رن فار کشمیر ۔۔۔ تحریر: شاہد رفیق

سرزمیںِبرصغیر پر انگریز کبھی بھی مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے نہیں آیا،وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد ہو،1857 کی جنگِ آزادی ہو،1905 کی تقسیمِ بنگال،1911 میں تنسیخِ بنگال یا پھر تین جون کا منصوبہ تقسیم،جو منصوبہ بھی انگریز لے کر آیا وہ مسلمانوں کے لئے کبھی بھی نہیں تھا،جیسے کہ مائونٹ بیٹن جب تقسیم کا منصوبہ لے کر آیا تو اس نے ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا کی’’مسٹر نہرو میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے وہ آخری وائسرائے نہ سمجھیں جو برطانوی راج ختم کرنے آیا ہے ،بلکہ وہ پہلا وائسرائے خیال کریں جو نئے ہندوستان کو راستہ دکھانے آیا ہے۔‘‘اس سے انگریز کی ہندو

نوازی کا پول کھلتا ہے۔اسی نا منصفانہ تقسیم کے نتیجہ میں پاکستان اور مقامی افراد کے لئے وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کے حل کے لئے ہم نے لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دیں،اس مسئلہ کا نام ہے مسئلہ کشمیر۔انگریزوں کی من مانیوں سے جونا گڑھ اور حیدر آباد تو instrument of accession کے ذریعے ہندو بنئیے کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔دکھ اور مقام افسوس تو یہ ہے کہ جب کشمیر کی باری آئی تو اسی قانون کی دھجیاں اڑا کر other factors کے تحت ہندئوں نے اپنے گلے کا جینو بنا کر اٹوٹ انگ کا دعویٰ کر دیا،اس طرح کشمیر کے مسلمانوں کے لئے تاریخ کو تاریک بنا دیا۔کشمیریوں کے ساتھ ظلم روا رکھا جانے لگا،خون کی ندیاں بہائی جانے لگیں،عصمتیں نیلام اور عزتوں کا جنازہ نکالا جانے لگا،اور نوجوانوں کو جوانی سے قبل ہی سولی چڑھنے پہ مجبور کیا جانے لگا۔اوپر سے نہرو کا یہ پیغام کہ’’کشمیر کے بارے میں جو بھی اقدامات کئے ہیں سب گاندھی جی کی بدولت ہیں‘‘آج سے سات دہائیاں پہلے ہندوستان نے جنگ کا خود آغاز کیا اور خود ہی جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی چوکھٹ پہ سر بھی جھکایا۔اور مقدمہ درج کروایا جو کہ کشمیر میں جنگ بندی کے متعلق تھا۔جس کے متعلق فیصلہ کے لئے پوری عالمی برادری ،خصوصاً کشمیری اب تک منتظر ہیں۔اقوام متحدہ نے مسئلہ کے حلتقسیم برصغیر کے وقت موجود 580 شاہی ریاستوں کے الحاق کے بارے میں دو طرح کے قوانین کا اطلاق کیا گیا۔ایک عوام کی مذہبی اکثریت کو مدنظر رکھا جائے دوسرا ریاست کا سربراہ فیصلہ کرے کہ اسے کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے۔ان دونوں قوانین کے در پردہ مسلمان اکثریتی ریاستوں کے ساتھ نا انصافی تھی ۔تقسیم کے وقت جموں وکشمیر کے

حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا بعد ازاں مشروط طور پر بھارت کے ساتھ الحاق پر آمادگی ظاہر کر دی،اس صورت حال میں بھارت کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ و اختیارات دئے گئے تاہم ریاست کی جانب سے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا۔370 آرٹیکل دراصل مرکز اور ریاست کے درمیان تعلقات کے خدو خال کا تعین بھی کرتا ہے۔علاوہ ازیں یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا،اس آئین کے تحت ریاست کی اپنی ایک حیثیت برقرار تھی اور کیونکہ

آرٹیکل کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے،الگ پرچم رکھنے کا بھی حق تھا ۔اس کے علاوہ اس آرٹیکل کے تحت ریاست میں کسی بھی غیر کشمیری کو کشمیر میں جائیداد کی خرید وفروخت کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔بات یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی کمپنیوں کو بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائیداد حاصل کرنے،رہائشی کالونیاں بنانے،صنعتی کارخانے لگانے اور اراضی پر قبضہ کی اجازت نہ تھی۔اب ہندوستان نے ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعے آرٹیکل 370 کے خاتمہ کا اعلان کر دیا ہے اس اعلان کے بعد ریاست جموں و کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ

حاصل نہیں رہا ،اس کے تحت اب ریاست کی جگہ مرکز کے زیر انتظام دو ریاستیں بن جائیں گی ایک لداخ اور دوسری کا نام جموں وکشمیر ہوگا۔ان دونوں کا انتظام و انصرام لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے۔جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہوگی جبکہ لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق یہ فیصلہ علاقہ کی سکیورٹی کی صورت حال اور سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔لیکن بھارت یاد رکھے کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی پاکستانی رہائش پذیر ہو کسی طور کشمیر ی مسلمان بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو قبول نہیں کریں گے،

تسلیم تو کجا ہم تو دامے درمے سخنے اور جسم میں خوان کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے حقوق کی آواز اقوام عالم کے روبرو پیش کرتے رہیں گے۔ہمیں حصول آزادی کشمیر کے اس حق سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ورچوئل رن فار کشمیر اسی سلسہ کی ایک کڑی ہے جو کہ ایک ایسی ایپ ہے جس کو ڈائون لوڈ کر کے آپ اپنی آواز کشمیر کے حق میں اٹھا سکتے ہیں اور بھارتی مظالم کے خلاف اٹھائی جانے والی آواز کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔ورچوئل رن فار کشمیر کا مقصد کیا ہے؟بین الاقوامی سطح پر کئے جانے والا ایک ایسا ایونٹ ہے جس کا مقصدقابض بھارتی کشمیر میں

بھارتی افواج کے ظلم وتشدد کو بے نقاب کرنا ہے۔ آپ سب کے علم میں ہے کہ بھارتی فوج کا کشمیر کو محاصرہ میں لئے ہوئے ایک سال ہونے کو ہے،اس لئے اس ایپ کے ذریعے سے ان مظالم کے خلاف آپ اس میراتھن میں شامل ہو کر اپنے حصہ کی شمع کو روشن کریں تاکہ یہ بات دنیا کے سامنے روشن ہو جائے کہ کشمیر کے لئے ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔آپ یو سمجھ لیں کہ ورچوئل رن فار کشمیر آٹھ ملین کشمیریوں کے لئے امید کی ایک کرن ہے اور ایک چنگاری سے سلگھی ہوئی آگ محلات کے محلات جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ایک لحاظ سے کشمیری بھائیوں کو یہ بتانا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے شانہ بہ شانہ لڑنے مرنے کو تیار ہے۔اس لئے ہمیں جتنا،جس قدر اور جیسے بھی ممکن ہو سکے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوکر بتانا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔بلکہ ہم سب ایک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.