لاک ڈائون کی سیاست ۔۔۔ تحریر: حاجی محمد لطیف کھوکھر

کرونا وائرس تھا ،ہے یا رہے گا؟، اس بحث سے ہٹ کر کہ ملک بھر میں لگائے گئے لاک ڈائون کوجزوی طور پر ہٹا دیا گیا ہے یا پھر ایسا ہے کہ اس میں فی الوقت کسی حد تک نرمی کردی گئی ہے ۔تمام احتیاطی ضابطہ کار یعنی ایس او پیزکے تحت ہر ایک کو کاروبار زندگی کو معمول پر لانے کی اجازت مل چکی ہے اس کے ساتھ ساتھ شادی ہالز ، ریسٹورنٹس کھل گئے ہیں البتہ تعلیمی ادارے اب بھی لاک ڈائون کے زیر اثر رہیں گے ۔کرونا وائرس جسے ہر صورت’’ وباء‘‘قرار دینے کی کوشش کی گئی اور پوری دنیا کو اس وائرس کے خوف میں مبتلا رکھا گیا جس کی وجہ سے سماجی ترقی ہی نہیں بلکہ

عالمی معیشت کا پہیہ بھی جام ہوکر رہ گیا جبکہ ایسی صورتحال میں ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو کس قدر دھچکا پہنچا ہوگا اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔کرونا وائرس اور لاک ڈائون کے نتیجے میں جس قدر اقتصادی غارت گاری ہوئی ہے اس سے عام آدمی کی معاشی حالت کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو بہت حد تک غربت کی لکیرسے نیچے کی زندگی کی طرف منتقل ہوئے ہونگے جو پہلے سے ہی غر بت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار نے پر مجبور تھے وہ اب تک دہرے عذاب میں پڑ گئے ہونگے ۔ کم و بیش چار مہنیوں پر مشتمل لاک ڈائون میں حکومت کی طرف سے عوام کو یوٹیلیٹی بلوں اور اشیاء خوردونوش سمیت دیگر بنیادی ضروریات کے حوالے سے ریلیف دینے کے بلند بانگ دعوے توکئے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت عوام کو ایک ٹکے کا ریلیف بھی نہیں دے سکی بلکہ اس نے ان کی زندگی کو اجیرن بنانے کا کوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا اس لاک ڈائون میں عوام کو رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اور عیدین جیسے دو عظیم تہوار وں کا بھی سامنا رہا ہے اور اس دوران ذخیرہ اندوزی، کالا بازاری اور مصنوئی مہنگائی اپنے عروج پر رہی جبکہ حکومت اس موقع پر بھی خاموش تماشائی بنی رہی حالانکہ وہ لاک ڈائون کے نام پر کاروباری زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کرنے میں کامیاب رہی ہے ۔تو ایسے میںسوال یہ پیدا ہوتا کہ جب ایک حکومت کرونا وائرس کے نام پر لاک ڈائون لگاکر اس پر مکمل پر طور عملدرآمد کراتی ہے لیکن وہی حکومت ذخیرہ اندوزوں ، بلیک مارکیٹنگ او رمصنوئی مہنگائی کی وجہ بننے والے کرداروں کو لگام ڈالنے میں کیونکر ناکام ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف دیناحکومتی تر جیحات میں شامل نہیں ہے محض وہ عالمی سطح پر پوائنٹ اسکورنگ کر نے کیلئے کرونا وائرس اور لاک ڈائون کی سیاست کرتی آرہی ہے بلاشبہ پاکستان میں کرونا وائرس نے وہ تباہی نہیں مچائی ہے جو مغربی ممالک میں ہوئی لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس قدر اچھے انتظامات اور اقدامات کیے ہیں کہ اس سے کرونا وائرس نہیں پھیل سکا جبکہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ کرونا وائرس پر تبدیلی سرکار اورر سائیں سرکار ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گھتا رہی ہے ۔کرونا وائرس اور لاک ڈائون کی لعنت

سے پاکستانی عوام نے خالصتاً’’ اپنی مدد آپ کے تحت‘‘ نجات حاصل کی ہے یہاں یہ واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستانی عوام نے کسی بھی عذاب یا لعنت سے’’ نجات دہندہ ‘‘ کے بغیر نجات حاصل کی ہو اس سے پہلے بھی عوام کئی موقعوں پر اپنے حصے کی جنگ خود لڑ چکی ہے اوراس وقت بھی وہ خوشحالی کی تلاش میں مہنگائی اور بے روزگاری کے عذاب سے نبرد آزما ہے ۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ عوام جو ایک جانب لاک ڈائون کی وجہ سے فکر معاش میں مبتلا تھی تو دوسری جانب حکومت بجلی کے نرخوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی

زندگی کو مذید اجیرن کرنے کی روش پر گامزن رہی،ایسے میں ستم بالائے ستم یہ ہے کہ عوام دشمن اقدامات کرنے کے باوجود حکومتی کارندے عوام کو خوشخبری دینے جیسے دعووں سے باز نہیں آئے ،شرم سے ڈوبے ہوئے چہروں کی بجائے ان کے چہروں پر اب بھی رعونت ٹپک رہی ہے اورر تفخر ہے کہ کم نہیں ہورہا ہے جیسا کہ حکومت کرنے کا حق ان کے’’ باپ دادا‘‘ ان کے لئے وررثے میں چھوڑ کر گئے ہیں ۔حکومت ایک ایسے نقاب کی مانند ہے جو سیاست دانوں کے چہروں پر ڈال دیا جاتا ہے جس کے بعد انھیں سماج اورر عوام کی وہ حالت نظر نہیں آتی جو وہ حکومت میں آنے سے پہلے وہ دیکھ

رہے ہوتے ہیں ،اس کی سب سے بڑی مثال وزیر اعظم عمران خان کی صورت میں موجود ہے جب وہ اپوزیشن میں تھے تو عوام کے مسائل کی ترجمانی کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا لیکن جب وہ حکومت میں آئے تو ان کی آنکھوں پر بھی وہی پٹی باندھ دی گئی ہے جو اس سے پہلے حکمرانوں کی آنکھوں پر باندھی گئیں تھیں ۔ پاکستانی قوم ایک ایسی قوم ہے جس کا کوئی نجات دہندہ نہیں ہے اور وہ کسی رہنما کے بغیر ہی اپنا کارواں گھسیٹ رہی ہے ایسے میںسو ال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی قوم جس کا کوئی نجات دہندہ نہ ہو اور کوئی رہنما بھی نہ ہو تو کیا وہ اپنی منزل کو پا سکتی ہے ۔۔؟ یعنی قوم ایسے دہرے عذاب میں مبتلا ہے کہ اسے منزل کی جستجو ہی نہیں بلکہ نجات دہندہ کی تلاش بھی ہے، تو پھر ایسے میں منزل کیا اور منزل کا تعین کیسا ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.