علم دشمن حکمران ۔۔۔ تحریر: اورنگزیب اعوان

تاریخ اقوام عالم پر نظر ڈالی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ہر قوم نے خود کو جہالت و پستی کی گہرائیوں سے نکالنے کے لیے علم و تدریس کا سہارا لیا. ان تمام اقوام کے مقابلہ میں قوم مسلم کا آغاز ہی علم و حکمت کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا. دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کی ہدایت و راہنمائی کا جس قدر اہتمام کیا ہے. اس کی مثال کسی اور مذہب میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی. اللہ تعالیٰ نے نسل انسانیت کو علم سے روشناس کروانے کے لیے اپنے انبیاء کرام اور آسمانی کتب کا نزول کیا.اس سلسلہ علم و ہدایت کواللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور قرآن حکیم کے ذریعہ سے پایہ تکمیل تک پہنچایا.

اس کے بعد سے روز قیامت تک انسانیت کی رشدو ہدایت کےلیے حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی مبارک اور قرآن پاک سے راہنمائی کا حکم صادر فرمایا گیا ہے. اسی اصول پر کاربند رہتے ہوئے. ماضی کے مسلم حکمرانوں و محققین نے اپنی قوم کی راہنمائی کی . جس کی بدولت انتہائی قلیل عرصہ میں مسلم قوم نے دیگر قوموں پر فوقیت حاصل کر لی. مسلم قوم اپنے علم کی بدولت دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئ. ہر شعبہ زندگی میں دیگر اقوام ان کے علم سے مستفید ہونے لگی . ان کے علم وہنر کا چرچہ ہر سو تھا. دین اسلام سے خائف مخالف قوتوں نے ان کو شکست دینے کے لیے ان کی تعلیمی درسگاہوں کو نست و نمود کرنے کا تہیہ کیا. کیونکہ مسلم حکمرانوں نے مسلم قوم کی تعلیم و تربیت کے لئے عظیم درسگاہیں قائم کر رکھی تھیں . جن سے فارغ التحصیل طالب علم اپنے شعبہ تعلیم کے نامور ماہرین و سائینسدان ہوتے تھے. ہلاکو خان نے جب بغداد شہر پر حملہ کیا تو اس نے سب سے پہلے اس شہر میں قائم مسلمانوں کی تعلیمی درسگاہوں اور کتب کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا . کیونکہ ان کے نزدیک مسلم قوم کا علم ہی ان کی اصلی طاقت تصور کیا جاتا تھا. اس لیے وہ اس طاقت کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے تھے. بدقسمتی سے ہمارے آج کے مسلم حکمران بھی مسلم قوم کی تعلیم و تربیت کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے فریضہ سے قاصر ہیں. شاید ان کے نزدیک تعلیم کوئی اہمیت نہیں رکھتی. آج دنیا بھر کی پہلی سو یونیورسٹیز میں کوئی اسلامی ملک کی یونیورسٹی شامل نہیں.

کیونکہ مسلم حکمران اپنی اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں. یا اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے فکر مند ہیں. ملک پاکستان میں بھی نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے کوئی خاطر خواہ نظام نہیں. ہر آنے والی حکومت اس شعبہ میں اپنے اپنے تجربات کرتی نظر آتی ہے. اگر یوں کہہ لیا جائے کہ ملک پاکستان میں شعبہ تعلیم کو ذاتی کاروبار کا بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا. آج اگر پاکستان میں شبعہ تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم پڑے گا. کہ ہر صنعتکار و سرمایہ دار نے اپنے ذاتی تعلیمی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں. کیونکہ ان کی نظر میں یہ سب سے منافع بخش کاروبار ہے.

یہی سرمایہ دار پاکستان میں حکومت سازی اور حکومت کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں. حکومتیں بھی انہیں کی منشاء کے مطابق تعلیمی پالیسی کا نفاذ کرتی ہیں. اسی لیے آج تک ملک پاکستان میں کوئی بھی تعلیمی پالیسی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائی. کیونکہ جب تک نوجوان نسل کی تربیت کی بجائے انہیں منافع حاصل کرنے کا ذریعہ تصور کیا جاتا رہے گا. تب تک ہم شعبہ تعلیم میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پائے گے. پاکستان میں گزشتہ حکومت پاکستان مسلم لیگ ن کی تھی. صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف تھے. انہوں نے نجی شعبہ کے ساتھ ملکر تعلیم کے میدان میں گرا قدر خدمات سرانجام دیں. تعلیمی اداروں میں ضرورت مند طالب علموں کو سکالر شپ دیا جاتا تھا. پوزیشن ہولڈر طالب علموں میں مفت لیپ ٹاپ تقسیم کیے جاتے تھے. تاکہ وہ جدید دنیا میں تعلیم کے شعبہ میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہو سکے. جس پر انہیں اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا. پاکستان تحریک انصاف اس کو سیاسی رشوت سے تعبیر کرتی تھی. کہ پاکستان مسلم لیگ ن نوجوان نسل کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے انہیں لیپ ٹاپ دے رہی ہے.پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان سے نوجوان نسل کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں. کیونکہ انہوں نے نوجوان نسل کو باور کروایا تھا. کہ اگر ہماری حکومت آئی تو ہم تعلیم کے شعبہ میں انقلاب برپا کر دے گے. اس وعدے پر اعتبار کرتے ہوئے. نوجوان نسل نے پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن 2018 میں اکثریت سے ووٹ ڈالے.

مگر امور حکومت سنبھالتے ہی پاکستان تحریک انصاف نے نوجوان نسل سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کر لیا. اور انہیں سرمایہ داروں کے کہنے پر اپنی تعلیمی پالیسی واضح کرنا شروع کردی. جو ماضی میں بھی اس شعبہ سے کمائی کرتے رہے ہیں. وزیراعظم عمران خان نے خود دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے علم حاصل کی ہوئی ہے. اسی طرح سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی علم و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے ہیں. انہیں طالب علموں کو درپیش مسائل کا بخوبی اندازہ ہے. مگر سمجھ سے بالاتر بات ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو انہیں موثر تعلیمی پالیسی واضح کرنے سے روکتی ہے.

پاکستان تحریک انصاف نے نوجوان نسل کے لئے تعلیم کے دروازے بند کر کے رکھ دیئے ہیں. آج غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا. کیونکہ حصول تعلیم کو اس کی پہنچ سے دور کردیا گیا ہے. وزیراعظم عمران خان خود سے اعتراف کرتے ہیں. کہ ملک میں مافیاز ہیں. جو میری حکومت کو چلنے نہیں دے رہے. تو ان سے دست و بدست درخواست ہے. کہ انہیں مافیاز میں سے ایک طاقت ور مافیا تعلیم کے شعبہ کا مافیا بھی ہے.جو ہر دور حکومت میں اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو تعلیمی پالیسی بنانے پر مجبور کرتا ہے. کیونکہ اس کے پاس کیثر سرمایہ ہوتا ہے.

جس کے بل بوتے پر وہ حکومتی وزراء اور میڈیا کے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے. موجودہ انصاف حکومت کے دور اقتدار میں تعلیم کے شعبہ میں ہونے والی چند ناانصافیوں کا احوال یہاں بیان کیا جانا ضروری ہے. ماضی میں وکالت کی ڈگری کے لیے طالب علم کا گریجویشن ہونا ضروری تھا. اور یہ ڈگری تین سالہ تعلیم مکمل کرنے پر مل جاتی تھی. مگر اسی تعلیمی مافیا نے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت بھاری بھرکم رقم دے کر ملک کے نامی گرامی وکلاء کو کھڑے کر کے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں کیس دائر کیا. کہ تین سالہ وکالت کی ڈگری کی بدولت بدمعاش اور لوفر لوگ اس پیشہ میں آ جاتے ہیں.

اس کی روک تھام کے لیے پانچ سال پروگرام کی شرط لاگو کی جائے. تاکہ مستحق طالب علم ہی شعبہ وکالت میں آ سکے. اس کے ساتھ ہی شرط لاگو کر دی گئی کہ وکالت میں داخلہ لینے کے لئے این ٹی ایس کا پیپر پاس کیا جائے. عدالت عظمیٰ نے اس پر عمل درآمد کا اصولی فیصلہ صادر کر دیا. یہ جانے بنا کہ اس فیصلہ کے طالب علموں پر کیا اثرات مرتب ہو گے. ان وکلاء نے کسی بھی طرح سے شعبہ وکالت کو فائدہ نہیں پہنچایا. بلکہ بھاری بھرم فیس لیکر نجی شعبہ کو فائدہ دیا ہے. ایک طرف این ٹی ایس کو فائدہ ہوا. تو دوسری طرف ان پرائیویٹ کالجوں کو بے پناہ فائدہ ہوا جو وکالت کی ڈگری کرواتے ہیں.

انہوں نے ایک سال کی فیس اسی ہزار سے لیکر ایک لاکھ بیس ہزار تک مقرر کردی ہے. جو ڈگری ایک طالب علم تین سال میں محض پجہتر ہزار میں مکمل کر لیتا تھا. اب پانچ سال میں چھ لاکھ میں مکمل کرے گا. غریب طالب علم تو وکالت کی ڈگری حاصل ہی نہیں کر سکتا. عدالت عظمیٰ کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے. اس فیصلہ کو دیکھتے ہوئے تو ایسا لگتا ہے. کہ اس شبعہ کے ارباب اختیار خود اپنے ہاتھوں سے اپنے آنے والے جانشینوں کو قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں. ڈگری مکمل ہونے کے بعد وکالت کے لائسنس کے اجراء کے لیے پھر سے این ٹی ایس کا ٹیسٹ پاس کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے.

جو کہ سراسر ناانصافی ہے. گزشتہ روز ایچ ای سی نے فیصلہ کیا ہے. کہ دسمبر 2018 کے بعد سے دو سالہ گریجویشن پروگرام ختم تصور کیا جائے گا. ملک بھر میں کوئی بھی کالج اور یونیورسٹی دو سالہ گریجویشن نہ کروائے. نئے قانون کے مطابق اب گریجویشن کی تعلیم چار سال پر محیط ہوگی. جوکہ پاکستان کے غریب طالب علموں سے سراسر زیادتی ہے. پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں طالب علموں کی اکثریت محنت مزدوری کرکے اپنے بل بوتے پر تعلیم حاصل کرتی ہے. مگر نئی تعلیمی پالیسی نے ان پر حصول تعلیم کے دروازے بالکل بند کر رکھ دیئے ہیں. یہ فیصلہ جات کسی بھی طرح سے تعلیمی شعبہ اور طالب علموں کے حق میں نہیں. بلکہ ان فیصلوں کا مقصد سرمایہ دار مافیا کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے. سرمایہ دار کو ہر صورت اپنے ذاتی منافع سے غرض ہوتا ہے. وہ ملک و نوجوان نسل کے مستقبل کے بارے میں ہرگز نہیں سوچتا. اس سے بڑھ کر ہمارے ملک کی بدقسمتی اور کیا ہوگی. کہ ہمارے میں اسلحہ سستا اور تعلیم مہنگی ہے. اسی لیے تو ہمارے ہاں جرائم کی شرح میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے. کیونکہ ہم نے تعلیم کو غریب کی پہنچ سے کوسوں دور کر دیا ہے. وہ مجبوراً چوری، ڈکیتی، جنسی جرائم کی طرف راغب ہو جاتا ہے. خدارا ہمارے حکمران تعلیم دشمن پالیسیاں واضح کرنے کی بجائے تعلیم دوست پالیسیاں نافذ عمل کرے. تاکہ ملک میں حقیقی تبدیلی اور خوشحالی کا دور دورا ہو سکے. ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ملک پاکستان کو شامل کرنے کے لیے نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا اشد ضروری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں