ہاں میں لفافہ صحافی ہوں ۔۔۔ مکالمہ: علی شیر

سیاسی کرداروں سے کہتا ہوں کہ جرات کرے اور اس مکالمہ میں حصہ لے۔میں سول بالادستی کی تقلید کرتا ہوں۔میں اداریاتی اجارہ داری کے بجائے سول کرداروں کے ساتھ کھڑا رہتا ہوں فوج کا کردار اس حد تک تسلیم کرتا ہوں جس کی وضاحت آئین میں ہے فوج کا احترام میرے لئیے لازم ہے مگر جہاں سول بالادستی اور اداریاتی بالادستی میں سے کسی ایک کو چننے کی بات آئے تو میں اپنے اصلاف کی طرح ہمیشہ سول بالادستی کے ساتھ کھڑا رہا اور کھڑا رہوں گا چاہے وہ بلاول زرداری، میاں محمد نواز شریف یا عمران خان کی صورت میں ہوں۔
میرے صحافتی کیریر میں یہ عنصر ہمیشہ نمایاں رہا ہے بھلے کوئی اسے سمجھے یا نہ سمجھے میرا مقصد نہ ہی کسی کو سمجھانے نہ ہی کسی کے سامنے اپنے آپ کو منوانے کے لئیے میں قلم و آواز کا استعمال اس لئیے بھی نہیں کرتا کہ میں خودنماء ہوجاوں
میں معاشرے کا آئینہ ہوں میں تنگ و تاریک گلیوں میں جنم لینے والی آہوں، سسکیوں کا ترجمان ہوں میں جاگتی آنکھوں خواب سجانے والے بنیادی ضروریات سے محروم طبقات کی اجارہ داری میں جکڑے محکوم لوگوں کی آواز ہوں جمہوریت و آمریت کی جنگ کی نظر روز جینے اور مرنے والوں کا نوحہ ہوں میں وہ کردار ہوں جو قوموں کی زندگی میں خوشحالی کا سبب نسلوں کے مستقبل کو روشن و محفوظ صرف سول بالادستی کی بنیاد پر وجود میں آنے والے نظام کو سمجھتا ہوں میں سول بالادستی کے صف اول دستے کا سپاہی ہوں میرے قبیل کے اصلاف نے سول بالادستی کے لئیے جانوں کا نظرانہ پیش کیا میں ان کا پیروکار ہوں میں اپنے اصلاف کے اس عزم کو تھامے رکھنے والا قلم/آواز کا سپاہی ہوں جس کے زمہ سول بالادستی کے ضامن کرداروں کو سول بالادستی کیخلاف سازشوں سے روکنا بھی ہے میں بیک وقت دو محازوں پر لڑتا ہوں۔میں یہاں تاریخ کے اوراق میں چیختے ہوئی کہانیاں پیش نہیں کرنا چاہتا میں نے ان اوراق میں ان کرداروں کو بھی بہت قریب سے دیکھا،جانا اور پرکھا بھی جنہوں نے سول بالادستی کے محاز سیاست میں قدم رکھتے ہی سول بالادستی کے دشمنان سے گھٹ جوڑ کو فروغ دیتے ہوئے آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کا سہارا لے کر سول بالادستی پر شب خون مارتے ہوئے ادھر ہم ادھر تم تک کا نعرہ بلند کیا میں نے تاریخ کے ان سیاہ اوراق میں ان کرداروں کو بھی دیکھا جنہوں نے جنرل ضیاء الحق آمر کا سہارا لیتے ہوئے محمد خان جونیجو کا تختہ الٹا نے میں سہولت کاری نبھائی سول بالادستی کے مقدس لبادہ اوڑھ کر دشمنان سول بالادستی کی خواہشات کو تقویت فراہم کرنے کے لئیے شہید محترمہ بےنظیر کا راستہ روکنے کے لئیے آئے جے آئی کو تخلیق کیا میں اپنے اصلاف کے روشن اقدار پر قائم رہتے ہوئے ان کرداروں کیخلاف شدید مزاحمت کرتا آیا ہوں اور کرتا رہوں گا۔
میں بی بی شہید کے بعد پاکستان کھپے نعرہ کے پس پردہ محرکات سے بھی بہت حد تک آگاہ ہوں میں یہاں تک شعور رکھتا ہوں کہ بی بی کی شہادت پر آصف علی زرداری کی سربراہی میں برسر اقتدار آنے والی بی بی شہید کی جماعت نے اپنی عظیم قائد کے قاتلوں کے تلاش انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں بی بی کے چاہنے والوں کے ساتھ جس طرح ہاتھ کیا میں ان تمام خطرناک محرکات پر بات کرنے کی جرات بھی رکھتا ہوں وہ محرکات جن پر آواز اور قلم کو بلند کرنے والوں کے سر نہیں رہتے میں نے تو اس سول بالادستی کی جدوجہد میں ڈی چوک کے کرداروں کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا جنہوں نے اقتدار کے حصول کے لئیے 22 سالہ جدوجہد کو پس پشت رکھتے ہوئے حصول اقتدار کے لئیے سول بالادستی کے برخلاف طاقتوں کے ساتھ میل ملاپ کیا ۔
سول بالادستی کو یقینی بنانے کے لئیے قربانیاں پیش کی جانی والی تاریخ میں میرے قبیل کا زکر سب سے نمایاں ہے اس سول بالادستی کو قائم رکھنے اسے یقینی بنوانے میں صحافتی قبیل اور وکلاء برادری نے جتنی قربانیاں دی ہے اتنی قربانیاں تو سول بالادستی کے دعویدار سیاسی کرداروں ان کے کارکنان نے بھی پیش نہیں کی ان سیاسی کرداروں کی نے پارلیمان کی حکمرانیت کے لئیے حقیقی جدوجہد کو کب کہاں کس دور میں فروغ دیا یہ بھی سب کے سامنے عیاں ہے سول بالادستی کا نعرہ تو لگایا گیا مگر اس کا محور و مرکز صرف حصول اقتدار تک ہی رہا ماضی کا تزکرہ رہنے دیجئے ماضی قریب کی بات کرتے ہیں میاں محمد نواز شریف کا ووٹ کو عزت دوں بیانیہ پر ہم ہی نے لبیک کیا ہم ہی نے صوبتیں برداشت کی آخر میں کیا ہوا ووٹ کو عزت دوں بیانئے کو لیکر میاں صاحب ملک سے باہر چلے گئے اسی بیانیہ کی بنیاد پر مفاہمت کا راستہ نکالا گیا اور آج ان کی جماعت کو پی ڈی ایم اشتراک پر اقتدار میں بیٹھا دیا گیا کہاں ہے آج ووٹ کو عزت دوں بیانیہ اور اس کے تخلیق کردہ سے لیکر پیروکار!! وطن عزیز کے سیاسی منظر نامہ میں موجود تمام سیاسی کرداروں ان کے چاہنے والوں نے ہی سول بالادستی پر شب خون مارے رکھا کوئی سیاسی کردار سیاسی کارکن تاریخ کے حوالے سے ثابت تو کرے کہ سول بالادستی کے لئیے سب سے زیادہ قربانیاں سیاسی کرداروں نے دی یا قلم کار اور وکلاء برادری نے پیش کی!!
اسی سول بالادستی کے لئیے ہم نے نواز شریف کے مزاحمتی بیانئے کو لبیک کہا تو کبھی بلاول کے اور آج ہم عمران خان کے مزاحمتی بیانئے کو دوام بخشنے میں صف اول کا کردار نبھا رہے ہیں ہم جانتے ہیکہ یہ بیانئے محض ایک دکھاوا ہے کیونکہ مقصد جمہوریت کی آزادی نہیں اقتدار کا حصول ہے اور اس کے لئیے ناپسند سے من پسند میں آنا ہی ہے باوجود اس کے ہم ان مزاحمتی بیانیوں کے لئیے نکل پڑتے ہیں جانوں کا نظرانہ بھی ہم پیش کر رہے ہیں گھروں سے اٹھائے بھی ہم جا رہے ہیں اور ایسے میں لفافہ صحافی سے لیکر زرد صحافت کا ٹائٹل بھی ہمیں یہی سیاسی کردار نواز رہے ہیں!! کیونکہ پاکستان میں سول بالادستی کے لئیے موجود سیاسی جماعتوں نے کبھی حقیقی جدوجہد کی ہی نہیں جو ناپسند میں آتا ہے وہ مزاحمت کی طرف اور اس کے مقابل جو پسند میں ہے وہ مزاحمت پسند کو کچلنے میں مصروف رہتا ہے ایسے میں وہ تمام طبقات زیرعتاب رہتے ہیں ریاستی جبر و تشدد کا شکار ہوتے ہے طرح طرح کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں اختیارات کے ناجائز استعمال سے لیکر کارکنان کے زریعے بھی زندگی اجیرن کرتے ہے کبھی کسی نے سوچا کہ لفافہ صحافت یا پھر زرد صحافت کو فروغ کس نے دیا زرد صحافت کو زرد سیاست نے فروغ دیا لفافہ صحافت کی تاریخ کا بھی مطالعہ کیجئے تو آپ کو اس کے جنم کردہ کردار وہی ملیں گے جنہوں نے جمہوری لبادہ میں سول آمریت کو فروغ دیا صحافت کو بھی سرمایہ دار کے تسلط میں دے دیا۔آزاد صحافت کو یقینی بنانے صحافیوں کے معاشی، جانی تحفظ کے لئیے ان سیاسی کرداروں نے آج تک کی تاریخ میں کیا اقدامات اٹھائے زرا اس پر کوئی سیاسی کردار, کارکن روشنی ڈال سکتا ہے!!!

آندھی تقلید کے شکار یہ سیاسی کارکن یہ سیاسی کردار جو تیسری نسل کی غلامی کے بستے اٹھائے فخریہ انداز سے پیش پیش ہے یہ ہمیں لفافہ صحافی کا ٹائٹل دیتے ہیں انہیں شرم آنی چاہئیے مگر انہیں شرم نہیں آئے گی کیونکہ یہ نہ تو سیاست کی تعریف سے آشنا ہے اور نہ ہی حقیقی جمہوریت کے راہنما اصولوں سے انہیں تو بس فرد واحد کی تقلید اور اسے ہر حال میں امیر المومنین ثابت کرنے کا درس دیا گیا ہے یہی وہ سیاسی کارکنان اور کردار ہے جن کی اندھی تقلید نے آج وطن عزیز کو اس نہج پر پہنچا دیا۔اپنے گریبان پر جھانکنا نہیں اور چلے ہیں دوسروں کے کردار پر جج بننے ہاں میں لفافہ صحافی ہوں ہاں میرا تعلق زرد صحافت سے ہے !!
پر آپ کون ہوں!! آپ کیا کردار نبھا رہے ہوں؟؟
آج زرا جھانکوں نا اپنے اپنے گریبان میں

اپنا تبصرہ بھیجیں