گورنمنٹ کالج میرپور کا مجلہ سروش۔ 2016 ۔۔ تحریر: سید شبیر احمد

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور میں کسی کام کے سلسلے میں پرنسپل صاحب چوہدری نذر حسین سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ کام تو معمولی نوعیت کا تھا، فوراً ہو گیا۔ مزید کمال مہربانی اور محبت سے انہوں نے سروش کا نیا شمارہ 2016 / 17 عنایت فرمایا اور اس پر تبصرہ لکھنے کی ہدایت بھی کی۔ سروش اپنی مادر علمی گورنمنٹ کالج میرپور، اب پوسٹ گریجویٹ کالج کا ادبی مجلہ ہے جو ہمیشہ اپنی آب و تاب سے شائع ہوتا ہے۔ سروش کے مدیر پروفیسر خواجہ خورشید احمد نے بھی یہ حکم صادر فرمایا کہ اسے پڑھ کر اس پر تبصرہ بھی لکھنا ہے۔

سروش کے لیے مضمون لکھنا اور سروش پر مضمون لکھنا دو الگ الگ جہتیں ہیں۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں سروش کے لئے مضامین لکھے جو اس میں شائع بھی ہوئے لیکن وہ ایک نو جوانی کا دور تھا۔ اب آدھی صدی گزر جانے کے جب بالوں میں چاندی آ گئی ہے، سروش کی اشاعت پر مضمون لکھنا بہت ہی مشکل لگا لیکن اپنے لئے اعزاز کی بات سمجھ کر اس پر مضمون لکھنے کی جسارت کر ڈالی ہے۔ اتنے ضخیم شمارے کو باریک بینی سے پڑھنا نہایت ہی محنت طلب کام تھا جس کے لئے وقت بھی درکار تھا۔ مجھے اس اثنا میں دو دفعہ بیرون ملک کا قصد بھی کرنا پڑا جس وجہ سے مضمون لکھنے میں کچھ دیری ہو گئی۔ عرصہ دراز سے کالج چھوڑنے کے باوجود اس مجلہ میں اپنی دلچسپی برقرار ہے اور میری ذاتی لائبریری میں اس کے بہت سے شمارے موجود ہیں۔

سروش کا یہ شمارہ ایک ضخیم مجلد خوبصورت کتاب کی شکل میں ہے جو 634 اردو اور 108 انگریزی صفحات کے علاوہ درجنوں خوبصورت تصویروں پر مشتمل ہے۔ موجودہ شمارہ 2016 / 17 خوبصورت سرورق سے مزین ہے۔ صدر شعبہ اردو اور سروش کے مدیر اعلی خواجہ خورشید احمد اور ان کی جماعت نے اس پر بہت محنت کی ہے جس وجہ سے یہ ایک شاہکار کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مجلہ سروش کے ابتدا میں اس کے اجرا ء سے لے کر اب تک اس کے نگران، مدیر اعلی اور طالب علم مدیران کی فہرست کے بعد پہلے صفحہ پر حسب روایت اس کی پیشانی پر یہ شعر درج ہے۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

اس شمارے کا انتساب کالج ہذا کی ادبی سرگرمیوں کی جان اور اردو ادب سے تعلق رکھنے والے پروفیسر علیم صدیقی۔ پروفیسر منیر احمد یزدانی اور پروفیسر غازی علم الدین کے علاوہ گورنمنٹ کالج لاہور کے پانچ گرامی القدر پروفیسر صاحبان کے نام ہے۔ حکومتی سربراہان اور سرکاری افسران کے روایتی پیغامات سے اجتناب بہت ہی خوش آئند ہے جو راقم کو بہت پسند آیا۔ شمارے کا آغاز پروفیسر امین طارق قاسمی کی بہت عمدہ نعت سے کیا گیا ہے۔

مجلہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کالج کے طالب علموں کی راہنمائی کے لئے ابتدائی صفحات گوشہ قائد اعظم اور گوشہ اقبال کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ گوشہ قائد اعظم میں قائد محترم کی کشمیر کے لئے محبت، ان کی یادوں اور ان کی باتوں پر جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ قائد اعظم کے خطوط کی عکسی نقول اور ان کی نادر و خوبصورت تصاویر کی شمولیت سے یہ گوشہ ایک خوبصورت دستاویز بن گیا ہے۔ ان پر منظوم کلام بھی گوشہ کا حصہ ہے۔ گوشہ اقبال میں اساتذہ گرامی کے مضامین میں علامہ اقبال کی سیاسی خدمات اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے ان کی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پروفیسر منیر احمد یزدانی اور استاد محترم پروفیسر عرفان چوہدری کے علامہ اقبال پر جامع مضامین کالج کے طلبا کے لئے ایک خصوصی تحفہ ہیں۔

میاں محمد بخش ہمارے علاقہ کا ایک انمول اثاثہ ہیں۔ ان کے لئے مخصوص گوشہ میں پروفیسر ڈاکٹر زبیر احمد قاضی اور پروفیسر رفیق بھٹی کے مضامین مثنوی نیرنگ عشق اور موسیقی کے حوالہ سے میاں صاحب کا تذکرہ پنجابی ادب پڑھنے والوں کے لئے توشہ خاص ہے۔ طلباء کے تحقیقی مضامین سروش کی شان بڑھاتے ہیں۔ یادوں کے دریچے میں استاد محترم خواجہ محمد حنیف اور دوسرے طالب علموں نے کالج میں گزرے حسین لمحات کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے جنھیں پڑھنے سے ہمارے جیسے پرانے سروشیئنز کو کالج میں گزرے اپنے لمحات و واقعات یاد آ جاتے ہیں اور نئے طلبا کو کالج کی روایات کی پتہ چلتا ہے۔

شخصیات کے حوالے سے پروفیسر امین طارق قاسمی پر لکھا ہوا پروفیسر رفیق بھٹی کا مضمون استاد محترم کی شخصیت کا احاطہ کرتا ہے جو ایک بہترین استاد، شاعر اور شریف النفس انسان تھے۔ پروفیسر اکرم طاہر بھی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے ان پر نازنین اختر کا لکھا ہوا مضمون کچھ تشنہ تشنہ سا لگا جو اس سے زیادہ تفصیل کا متقاضی تھا۔ سید علی عباس زیدی ایک ممتاز بینکار اور بڑے شاعر تھے خواجہ خورشید احمد نے ان پر اپنے مضمون میں ان کی شخصیت کے مختلف گوشوں سے روشناس کرایا۔ رنگ تغزل میں شامل کی گئی غزلوں کے شعرا کی اکثریت میرپور شہر کی معروف شخصیات ہیں جو کالج کے سابق طالب علم بھی ہیں۔ اس حصے میں اساتذہ اکرام اور معروف شعرا کے علاوہ طلباء کی بہت اچھی اچھی غزلیں شامل ہیں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب بہت ہی مشکل کام ہے۔

محمود ہاشمی کا شمار کالج کے اولین اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کے لئے مختص گوشہ میں ان پر خواجہ محمد عارف، عالیہ عابد اور یعقوب نظامی کے لکھے گئے مضامین میں ان کی شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ راقم کو بھی 2004 ء میں برطانیہ میں ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کی شخصیت پر راقم کا لکھا ہوا ایک مضمون بھی راقم کی پچھلے سال شائع ہونے والی کتاب میں شامل ہے۔ طالب علموں کے انشائیے بھی سروش کا حصہ بنے ہیں۔ طالب علموں کی تحقیق اور علمی استبداد دیکھ کر خوشی ہوئی، یہ طالب علم اردو ادب میں ضرور نام پیدا کریں گے۔ حصہ نظم میں بھی کالج کے اساتذہ اور طالب علموں کی نظمیں شامل ہیں۔ کتنے ہی مقبول نام جن میں پروفیسر اکرم طاہر، نصیر احمد ناصر، ڈاکٹر صابر آفاقی، پروفیسر خان زمان مرزا، مظہر جاوید حسن، نرجس افتخار کاظمی، مسعود اعجاز بخاری اور ڈاکٹر امجد انصاری علاوہ طالب علموں کی نظمیں بھی اس حصہ میں شامل ہیں۔

کالج کے پر وفیسر ارشد راٹھور کی ناگہانی وفات نے ساتھی اساتذہ اور خاندان کو رنج و غم میں مبتلا کر دیا۔ ان کی رحلت پر ان کے ساتھی اساتذہ، دوست اور بچوں کے ساتھ ساتھ طالب علموں کے ان پر لکھے ہوئے مضامین ان کے لئے مجلہ میں مختص کیے گئے گوشہ راٹھور میں شامل ہیں۔ ان کے ہم جماعت ممتاز سیاستدان قمر زمان کائرہ کا مضمون ارشد راٹھور، ایک پرخلوص اور سچا دوست بھی شامل اشاعت ہے۔

نقدو نظر کے عنوان تلے آٹھ مضامین سروش کے اس شمارہ کا حصہ ہیں۔ پروفیسر غازی علم الدین کا لکھا ہوا مضمون نذیر فتح پوری کی خودنوشت اور خواجہ عارف نظامی کی نعت گوئی پر مضامین ان کی بہترین علمی و ادبی کاوش ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی پر لکھا ہوا خواجہ خورشید احمد کا مضمون بھی خاصے کی چیز ہے۔ جاوید الرحمن قریشی کا عائشہ مسعود کی کتاب کشمیر 2014 کا تجزیاتی مطالعہ تجزیہ نگاری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔

کشمیر کی بات کیے بغیر کشمیر کی کوئی تقریب اور کتاب مکمل نہیں ہوتی۔ اپنے وطن عزیز کے لئے سب کے ذہن اور قلم بولتے ہیں، اساتذہ اور طالب علموں نے اپنے وطن کے لئے نظموں کے ذریعے اپنی اظہار محبت کیا ہے۔ ڈاکٹر معین الدین کی اردو ادب کے لئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور جیسی علمی درسگاہ کے شعبہ اردو کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ اردو ادب کے مشاہیر پر ان کی درجنوں تصنیفات کے علاوہ ان کے لاتعداد تحقیقی مقالات ہیں۔ سروش نے بھی اس اشاعت میں ان کی اردو ادب کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک گوشہ مختص کیا ہے جس میں ان کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر صابرہ شاہین کے منظوم خراج عقیدت بھی اس حصہ میں شامل ہیں۔

طنز و مزاح کی بات کیے بغیر اردو ادب مکمل نہیں ہوتا اس لئے طنزومزاح کے مضامین اور شگفتہ کلام بھی سروش کا حصہ ہے اس کے علاوہ علم و ادب پر مضامین اور بانو قدسیہ کے ڈراموں پر بات چیت بھی سروش کا حصہ بنی ہے۔ کالج کی گولڈن جوبلی تقریبات کا احوال بھی فاطمہ زاکرہ نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ پروفیسر منیر احمد یزدانی نے شعبہ اردو کی کارگزاری اور مطالعاتی دورہ کے بارے میں سر حاصل مضامین لکھے ہیں۔ کل جماعتی تقریری مقابلہ اور بی ایس اردو کی تقریبات کا احوال بھی تفصیل سے دیا گیا ہے۔ مجلس اقبال کا کارکردگی اور تقریبات کا احوال پر دس مضامین بھی سروش میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی تعلیم کا احوال، علاقائی رنگ جس میں پنجابی، پہاڑی، گوجری، پوٹھوہاری اور سرائیکی میں منظوم کلام اور مضامین مجلہ میں شامل ہونے سے سروش ایک ایسا گلدستہ بن گیا ہے جس میں ادب کے سب رنگ نمایاں ہو گئے ہیں۔

اتنے بڑے حجم کی تصنیف کے لئے مضامین اکٹھے کرنا، قابل اشاعت مضامین کا چناؤ، ان کی کتابت اور پھر پروف ریڈنگ، اغلاط کی درستی، فہرستیں مرتب کرنا، تصویروں کا انتخاب اور ان کا صحیح جگہ جڑاؤ، سرورق کا انتخاب، کتابت کے لئے نوری نستعلیق رسم الخط اور اس کے نمبر کا صحیح انتخاب تاکہ پڑھنے والوں کو آسانی رہے، طباعت کے مرحلے میں پبلشر اور پرنٹر سے ملاقاتیں کسی بھی کتاب کی طباعت و اشاعت کے لئے کتنے کٹھن مراحل ہیں یہ کتابوں کی اشاعت سے منسلک افراد ہی جان سکتے ہیں۔ یقیناً سروش کے مدیر اعلی خواجہ خورشید احمد اور ان کی ٹیم کے ارکان ان کٹھن مراحل سے ضرور گزرے ہوں گے۔ اتنا خوبصورت مجلہ اور اردو ادب کا ایک بہترین مرقع چھاپنے پر گورنمنٹ کالج کے پرنسپل چوہدری نذر حسین، مدیر اعلی خواجہ خورشید احمد اور ان کے ساتھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button