لگا کر بچانے والے ۔۔۔ نعیم ثاقب

پانچ دن پہلے دیرینہ ہمدم کاشف سلیم کی رات بارہ بجے دبئی سے کال آئی یار میں کل پاکستان آ رہا ھوں عامر بھائی کرونا کی وجہ ہسپتال داخل ہیں ان کی حالت کافی سیریس ھے ۔ میں پریشان ھوگیا اور میری آنکھوں کے سامنے فلم سی چلنے لگی جب ابھی کچھ عرصہ پہلے عامر بھائی کالا کوٹ پہنے ابوبکر بھٹی صاحب کے آفس میرے سامنے بیھٹے گپیں لگا رہے تھے تب کاشی کا فون آیا تھا کہ یار بیدیاں روڈ پہ جگہ دیکھنی ھے عامر بھائی کو کال کر کے ساتھ لے جاؤ یا کسی کو کہہ دو کہ ساتھ چلا جائے ۔ میں نے قریبی دوست شیخُ عظیم سے کہاُکہ عامر بھائی سے رابطہ کرکے ساتھ چلے جاؤ ۔ اور پھر خود بھی عامر بھائی سے رابطہ کیا تو کہنے لگے یار میں تیری باجی کے ساتھ فیروز پور روڈ آگیا ھوں ایک دوست کے پاس بس دس پندرہ منٹ میں نکلتا ھوں ۔
یہ میری عامر بھائی کے ساتھ فون پہ پہلی بار بات ھو رہی تھی ۔دبنگ آواز میں بلا کی خود اعتمادی ، اور لہجے میں وقت کی پابندی سے بے نیازی جھلکتی محسوس ھوئی جیسے سمجھا رہے ھوں کہ بے فکر رہو ہر کام نےاپنے وقت پر ہی ھونا ھوتا ھے ۔
عامر بھائی لاھور ہائی کورٹ میں وکیل اور کاشف کے سب سے بڑے بہنوئی ہیں اور میری کاشف سے دوستی کو پچیس سال ھو گئے ہیں ۔ عامر بھائی سے ملاقات سالوں بعد خوشی غمی پہ ہی ھوتی رہی ھے ۔ باقاعدہ سٹنگ یا ملاقات بہت کم رہی ۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کاشف گزشتہ بیس سالوں سے فن لینڈ اور پھر دبئی میں مقیم ھے ۔
خیر بات ھو رہی تھی عامر بھائی کے ساتھ بیدیاں روڈ جانے کی ۔ میں نے دوبارہ کالُ کی تو کہنے لگے بس یار نکل رہا ھوں پھر تقریباّ ایک گھنٹہ گزر گیا ۔ دوبارہ بات ھوئی تو کہنے لگے یار آپ سمجھا دو میں پہنچ جاؤں گا اور پھر خود ہی چلے گئے ۔ شام کو کاشف سے بار ھوئی تو ہنستے ھوئے کہنے لگا ۔ عامر بھائی بڑے پیارے انسان ہیں ۔ پر ٹائم کے معاملے میں دیر سویر کر جاتے ہیں۔ کہتے یہی ہیں کہ میں دس منٹ میں آگیاُپر آتے اپنی مرضی سے ہیں میں تو عادی ھوں آپ بھی عادی ھو جاؤ گے۔ پھر دوسری بار ایک مہینے بعد بھی ایسا ہی ھوا ابوبکر بھٹی صاحب کے آفس ملنے کا ٹائم ھو تو عامر بھائی پھر لیٹ مگر جب آئے تو محفل پہ چھا گئے ۔ ادھر ادھر کی گپ شپ لگاتے رہے ۔ جس کام کے لیے آئے تھے اس پر بمشکل دو منٹ بات کی ھوگی ۔عجیب درویشی سا انداز تھا جیسے اس دنیاوی کام کی کوئی خاص دلچسپی نہ ھو بس رسماٗ آئے ہیں جاتے ھوئے بتانے لگے ماشاءاللہ سارے بچے بہت اچھا پڑھ رہے ہیں بڑی دونوں بیٹیاں ڈاکٹر بن رہی ہیں اور تیسری کنیرڈ کالج میں ھے ۔ نعیم یار میں نے گھر میں آج تک کیبل نہیں لگوائی ۔ بچوں سے پڑھائی کے علاوہ کوئی ڈسکشن نہیں ھوتی ۔گیجٹس کا استعمال نہ ھونے کے برابر ھے ۔ کہنے لگے یار میرے لیے آپ کاشی جیسے ھو ملتے رہاُکرو۔ بچوں کو لے کر گھر آنا ۔ میں نے گھر آکر بیگم کو بتایا کہ یار میں تو بڑا متاثر ھوا ھوں عامر بھائی کی باتوں سے کہ اس دور میں بھی گھر میں کیبل تک نہیں لگوائی کیا بے نیازی اور درویشی ھے۔ درمیان میں ایک دو دفعہ بات تو وہی اپنائیت والہ انداز اور محبت بھرا بے تکلف لہجہ ۔
کل کاشی کی کال آئی اور بتایا کہ عامر بھائی چلے گئے ہیں تویقین نہ آیا کہ ہمیشہ دیر کرنے والے اتنی جلدی کیسے کر گئے ۔ جنازے کے بعد کاشی میرے کندھے پہ سر رکھے سسک رہا تھا جیسے کہہ ہو یار میں آج دوسری دفعہ یتیم ھوگیاُھوں ۔ میرا بڑا آج چلا گیا ھے کیونکہ کاشف کے ابو کی وفات کے بعد عامر بھائی نے کاشف کی غیر موجودگی میں ایک باپ اور بڑے بھائی کی طرح سارے خاندان کا خیال رکھا ۔ قبرستان کھڑے ان کے بھائی بتا رہے تھے کہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو غریب آدمیوں کا کھانا عامر بھائی کے گھر سے بن کر جاتاھے چھت پر چڑیوں ،چیل کوؤں کے لیے باجرہ وغیرہ ڈالتے ہیں ۔اور سب سے بڑی بات ہائی کورٹ کا وکیل ھونے کے باوجود بینک بیلنس دو سو اٹھارہ روپے ۔عامر کا یقین تھا جو لگا دیا وہ بچا لیا ۔جو بچاُلیا وہ گنوا دیا ۔وہ بولتے جارہے اور میں کاشی کے ساتھ کھڑا عامر بھائی کے چھوٹے بیٹے عمر کو اپنے بڑے بھائی کے ساتھ باپ کی قبر پر پھول ڈالتے دیکھ کر سوچ رہاُتھا۔ یہ “لگا کر بچانے والے درویش بڑے گہرے ہوتے ہیں کیوں دیر کرتے ہیں اور کب جلدی چلے جائیں کچھ سمجھنے نہیں دیتے ۔پر رہتے ہمیشہ فائدے میں ہیں ۔ یہاں بھی اور وہاں بھی “
اللہ عامر بھائی کی اگلی منازل آسان فرمائے ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں