احساس ۔۔۔ وسیم بخاری

آج میرا دوست ملنے میرے آفس آیا.ابھی سلام دعا بھی نہیں ہوئی تھی.کہ تم ایک صحافی ہو.تمہیں نہیں معلوم کہ ایک تو غریب عوام مہنگائی سے پہلے مر رہی ہے .دوسرا یہ جو اکثریت دوکاندار حضرات ہے. اپنے من مانی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں.اور تو اور ظلم دیکھو میں صبح گاجر 14 کلو لیکر گھر آیا. مجھے اسکاوزن کم لگا.جس کنڈے پر دوکاندار نے وزن کر کے دیا تھا.وہ بھی درست حالت میں نہیں تھا.گھر آ کر جب میں نے گاجروں کاوزن کیا.تو وہ گیارہ کلو ہوئی.میں بعد میں اس دوکاندار کے پاس گیا.مگر الٹا وہ میرے ساتھ جھگڑا کرنے لگ گیا.ساتھ ہی وہ اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گیا.کہنے لگا.کہ جانوروں کا چارہ لینے جائے.ان کا وزن کم ہوتا ہے.آٹا چکیوں پر سے آٹا پیسوانے جائے تو وہ وزن ٹھیک نہیں کرتے.سبزی والے کریانہ والے کا یہی حال ہے.آڑھتوں کی تو پھر کیا ہی بات ہیں.سونا جو اس وقت سب سے زیادہ قیمتی ہے.تو زرگر کیا درست وزن کرتے ہو گئے.کسی بھی پٹرول پمپ پر چلے جائے گاڑی میں تیل ڈلوانے وہ پوائیٹ تو مکمل دیکھا دیئے گئے. مگر وہ لیٹر تیل پورا نہیں ہوتا.پہلے سنا کرتے تھے.کہ کنڈے بٹے کی سالانہ مرمت پاسنگ ہوا کرتی تھی.مگر نا جانے کہ اس تبدیلی سرکار میں کیا ہوا.پہلے دوکانداروں آڑھتوں چکیوں زرگروں آئل ایجنسیوں وغیرہ ناپ تول کے پیمانے کنڈے بٹے لیٹر میٹر وغیرہ درست نا ہوتے تو انکے چالان وغیرہ ہوتے تھے.افسران فیلڈز میں ہر وقت نظر آتے تھے.کنڈے بٹے کی سالانہ پاسنگ میں گورنمنٹ کی بہت زیادہ فیس اکٹھی ہوتی تھی.مگر اس تبدیلی سرکار کے آتے ہی دوکاندار. چکیوں والے.کباڑئے.آڑھتی.کپڑے والے.سنیارے.دودھ دہی والےمٹھایوں بیکری والے آئل ڈیلرز وغیرہ مہنگائی سے مری ہوئی عوام کو اور مارنے پر تولے ہوئے ہیں.کوئی پوچھنے والا نہیں نا جانے محکمہ ختم ہو گیا.یا اس میں افسران کی کمی ہو گئی.اگر وزیراعظم عمران خان یا وزیر اعلی پنجاب آفسران سے رپورٹ مانگےتو ان کو پتہ چلے گا. کہ گورنمنٹ پاکستان کو سالانہ صوبہ پنجاب کی کتنی فیس اکٹھی ہوتی تھی.اس وقت سنتے ہیں. کہ کنڈے بٹے کا کام محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس تھا.آج جو ہوٹلوں والے عوام کو روٹی دے رہے ہیں. اس کا وزن کرائے تو وہ 70 سے 80 گرام سے زیادہ نہیں ہوتا. مگر پیسے پورے وصول کر رہے ہیں. ساتھ ہی اس نے آہا بھری اور بولا یہ تو اب زندگی کا رونا لگتا ہے. روتے روتے ایسے ہی قبروں میں چلے جائے گئے.لیکن اب مرنا بھی آسان نہیں.قبر والے کمہار بھی 8 سے 10 ہزار روپے وصول کر رہے ہیں. یہی باتیں وہ میرے ساتھ کر ہی رہا تھا. کہ اس کا موبائل فون بجا اس نے فون سننے کے بعد کہا کہ بھائی میں اب چلتا ہو.میری بیوی بیمار ہے. اسکوں ڈاکٹر کے پاس لیکر جانا ہے. میں نے کہا بیٹھ چائے پانی تو پی پھر چلے جانا. مگر اس نے کہا نہیں پھر کسی وقت آؤں گا.اس کے جانے کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا. کہ یہ جو میرے پاس آیا پانی تک نہیں پیا اور بول بول کر چلا گیا ہے.اتنا تو مہنگائی اور اوپر سے کم ناپ تول کرنے والوں سے پریشان ہے.کہ اس غریب کا کیا حال ہو گا.اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہیں.ناپ تول کم کرنے والے کو تو اللہ پاک نے بھی معاف نہیں کرنا.اس کا ذکر تو قرآن پاک میں بھی ہے .پتہ نہیں ایسے لوگ جو کم تولتے ہیں.جھوٹ بولتے ہیں.رشوت لیتے ہیں.اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا جاتے ہیں.ان کا ضمیر بھی انکو ملامت نہیں کرتا.اگر جھوٹ بولنے والے پر اللّه کی لعنت ہیں. تو کم ناپ تول کرنے یا کروانے والے پر تو اللّه کا عذاب ہو گا.

جو ناصرف اس دنیا میں سکھ سے رہے پائیں گئے. نا ہی اگلے جہان انکو میرا رب معاف کرے گا.آج انسان کہنے پر بھی ہم کو شرم محسوس ہوتی ہے .ہم اس نبی کریم کے امتی ہے. جنہوں نے ہمیں کہا تول پورا تولو تول کم مت کرنا. ناجائز منافع نالینا.سچ بولنا جھوٹ مت بولنا. کسی کا حق مت کھانا.نماز ادا کرنا.روزہ رکھنا.زکوة ادا کرنا.کسی غریب کا دل مت توڑنا.بھوکھے کو کھانا کھلانا.مگر آج ہم ایسا کونسا کام کر رہے ہیں.جس سے معلوم ہوکہ ہم اپنے پیارے نبی کریم کے امتی ہیں.آج آپ کو اکثر گھروں میں ایسے گھر نظر آئے گئے.جو غربت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دے سکتے.کیا یہ مسلمانوں والے کام ہے.پہلے بزرگوں سے سنا کرتے تھے.کی اگر کسی کی بیٹی کارشتہ تو علاقے کے لوگ اکٹھے ہو جاتے. کوئی کہتا میری بیٹی کی شادی ہے کوئی کہتا میری بہن کی شادی ہے. اور فیصلہ کرتے کہ شادی کے تمام اخراجات ہم کرے گئے.پہلے دن سے لیکر رخصتی تک وہ خرچہ کرتےرخصتی کے وقت سب لوگ بیٹی بہن کو بہت سارے قیمتی تحفے تحائف دے کر رخصت کرتے.اس طرح اس غریب کو پتہ بھی نا چلتا اور اسکی بیٹی رخصت ہو جاتی.مگر آہستہ آہستہ یہ احساس لوگو کے دلوں سے ختم ہوتا گیا.اور اگر کسی کے دل میں احساس رہے بھی گیا. تو اسکو اس مہنگائی نے مار دیا.اب غریب گھروں کی بیٹیاں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں.میں تو اللہ پاک سے ہر وقت یہی دعاکرتا ہو.
کہ ہم سب مسلمانو کو نیکی کی توفیق دے.اور ہر امتی کو حضرت محمدصلی اللّه علیہ وسلم کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین. میں وزیراعظم پاکستان عمران خان. وزیر اعلی پنجاب. چیف جسٹس آف پاکستان. چیف آف آرمی اسٹاف سے گزارش کرتا ہو.کہ ماجودہ صورت حال جو غریب کی جارہی ہے .اس میں سے کچھ آپ کی نظر کی ہے.آپ سے ہی انصاف کی امید ہے.جو صورتحال ہے. اس میں غریب تو مر رہا ہے .تمام دوکاندار حضرات چاہے وہ آڑھتی.زرگر.سبزی فروٹ.آٹا چکیاں.کباڑے.آئل ایجنسی.ٹال لکڑی.ٹال چارہ.پٹرول پمپ.بیکری وغیرہ کے جو ناپ تول کے کنڈے بٹے ہیں.شہروں.دیہات. سبزی منڈیوں. غلہ منڈیوں.پٹرول پمپس وغیرہ اپنی خصوصی ٹیم بنائیں خفیہ بھیج کر چیک کروائے.تو آپ کو خود معلوم ہو جائے گا.
ہر ضلع میں بیٹھے آفسران نا جانے کیا کر رہے ہیں.اور عوام کو دوکاندار حضرات پٹرول پمپس وغیرہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں.عوامی سروے کے دوران عوام نے بتایا کہ یہ کام جب محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس تھا.تو وہاں انسپکٹرز. لیبرآفیسرز.اسسٹنٹ ڈائریکٹر ضلع میں ہوتے تھے.جو اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام دے رہے تھے.جب سے کنڈے بٹے کی پاسنگ کا کام ان سے لیکر محکمہ انڈسٹری میں گیا.اس کام کی حالت بہت بری ہوگئی.دوکاندار تو بھول ہی گئے ہیں.کہ ہم نے اپنے کنڈے بٹے مرمت یا پاسنگ کروانے ہوتے ہیں.بلکہ کئی دکاندار حضرات سے سننے میں بھی آیا ہے.کہ یہ کام ہی ختم ہو گیا ہے.عوام کا سروے کے دوران کہنا ہے. کہ یہ کام محکمہ لیبر کو واپس دیا جائے. جو احسن طریقے سے اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہے .اس وقت شہریوں کو کوئی شکایات بھی نہیں تھی.اور اگر کسی کو کوئی مسلہ درپیش ہوتا تو وہ اس کا فوری حل کر دیتے تھے.امید کرتا ہو.کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان.وزیر اعلی پنجاب.چیف جسٹس آف پاکستان. چیف آف آرمی اسٹاف عوام کی آواز کو ضرور سنے گئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں